🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4012. -- باب: القاضي يقضي في حال غضبه، فوافق الحق
-- باب: قاضی غصے کی حالت میں فیصلہ کرے اور وہ حق کے موافق ہو جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20286
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، فَرَّقَهُمَا قَالَا: ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى - هُوَ ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحِ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ"، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ: إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا زُبَيْرُ، اسْقِ، ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ"، قَالَ: فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللهِ إِنِّي لَأَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] الْآيَةَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ قُتَيْبَةَ وَغَيْرِهِ، كُلُّهُمْ عَنِ اللَّيْثِ.
عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کو پانی دینے کے متعلق جھگڑا کیا۔ انصاری نے کہا: پانی چھوڑ دو۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے انکار کردیا۔ وہ جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی کھجوروں کو دینے کے بعد اپنے ہمسائے کو دے دینا۔“ انصاری کو غصہ آگیا، کہنے لگا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور پھر روکے رکھو یہاں تک کہ منڈیروں تک پہنچ جائے۔“ اور زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ یہ آیت اس کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ مومن نہیں ہوسکتے یہاں تک وہ اپنے جھگڑوں میں آپ کو فیصل نہ مان لیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20286]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20287
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، أنبأ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: خَاصَمَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ فِي شَرْجٍ مِنَ الْحَرَّةِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ"، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" اسْقِ يَا زُبَيْرُ ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ الْمَاءُ ⦗١٨٣⦘ إِلَى الْجَدْرِ، ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَى جَارِكَ". قَالَ: وَاسْتَوعَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ حَقَّهُ فِي صَرِيحِ الْحُكْمِ حِينَ أَحْفَظَهُ الْأَنْصَارِيُّ، قَالَ: وَقَدْ كَانَ أَشَارَ عَلَيْهِمَا قَبْلَ ذَلِكَ بِأَمْرٍ كَانَ لَهُمَا فِيهِ سَعَةٌ قَالَ الزُّبَيْرُ:" فَمَا أَحْسَبُ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ إِلَّا فِي ذَلِكَ {فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ} [النساء: ٦٥] . قَالَ:" فَسَمِعْتُ غَيْرَ الزُّهْرِيِّ يَقُولُ:" نَظَرْنَا فِي قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ثُمَّ احْبِسِ الْمَاءَ، حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ" فَكَانَ ذَلِكَ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ عَبْدَانَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْمُبَارَكِ مُخْتَصَرًا.
عروہ بن زبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ سے حرہ کے نالے کے پانی کے بارے میں جھگڑا کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ، پھر (باقی) اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو۔“ انصاری کہنے لگا: یہ آپ کی پھوپھی کا بیٹا ہے، اس لیے! (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک متغیر ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”اے زبیر! پانی پلاؤ اور روکے رکھو، یہاں تک کہ منڈیروں تک جا پہنچے، پھر اپنے ہمسائے کی طرف چھوڑ دو۔“ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو ان کا پورا حق دیا جب انصاری نے اعتراض کیا، حالانکہ اس سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسعت والا معاملہ کیا تھا۔
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یہ آیت اسی کے بارے میں نازل ہوئی: ﴿فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ﴾ [سورة النساء: 65] ”اللہ کی قسم! وہ ایماندار نہیں ہو سکتے، جب تک آپ کو اپنے فیصلوں میں فیصل نہ مان لیں۔“ کہتے ہیں کہ میں نے زہری کے علاوہ دوسروں سے سنا کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول میں دیکھا کہ ”پانی روک یہاں تک کہ وہ منڈیروں تک پہنچ جائے“، یہ ٹخنوں تک تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20287]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں