🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4030. -- باب:: لا يقبل الجرح فيمن ثبتت عدالته إلا بأن يقفه على ما يجرحه به
-- باب: جس شخص کی عدالت ثابت ہو اس پر جرح قبول نہیں کی جائے گی سوائے اس کے کہ وہ ان اسباب پر مطلع کرے جن کی بنیاد پر وہ جرح کر رہا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20392
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عنِ ابنِ شِهَابٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ عِتْبَانَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِمَّنْ شَهِدَ بَدْرًا أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، قَدْ أَنْكَرْتُ بَصَرِي وَأَنَا أُصَلِّي لِقَوْمِي، فَإِذَا كَانَتِ الْأَمْطَارُ سَالَ الْوَادِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، وَلَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ آتِيَ مَسْجِدَهُمْ، فَأُصَلِّيَ لَهُمْ، وَدِدْتُ يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَّكَ تَأْتِي فَتُصَلِّيَ فِي بَيْتِي، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى، قَالَ: فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَفْعَلُ إِنْ شَاءَ اللهُ"، قَالَ عِتْبَانُ فَغَدَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ ارْتَفَعَ النَّهَارُ، فَاسْتَأْذَنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَذِنْتُ لَهُ، فَلَمْ يَجْلِسْ حَتَّى دَخَلَ الْبَيْتَ، فَقَالَ لِي:" أَيْنَ تُحِبُّ أَنْ أُصَلِّيَ مِنْ بَيْتِكَ؟"، قَالَ: فَأَشَرْتُ إِلَى نَاحِيَةٍ مِنَ الْبَيْتِ، فَقَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ، فَقُمْنَا فَصَفَفْنَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، قَالَ: وَحَبَسْنَاهُ عَلَى خَزِيرَةٍ صَنَعْنَاهَا لَهُ، قَالَ: فَثَابَ فِي الْبَيْتَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الدَّارِ، ذَوُو عَدَدٍ، وَاجْتَمَعُوا، فَقَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ: أَيْنَ مَالِكُ بْنُ الدُّخْشُنِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: ذَلِكَ مُنَافِقٌ، لَا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُلْ لَهُ ذَلِكَ، أَلَا تَرَاهُ وَقَدْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ يُرِيدُ بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ؟"، قَالَ: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّا نَرَى وَجْهَهُ وَنَصِيحَتَهُ إِلَى الْمُنَافِقِينَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللهِ"، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ الْحُصَيْنَ بْنَ ⦗٢١٢⦘ مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيَّ وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ كَانَ مِنْ سَرَاتِهِمْ عَنِ حَدِيثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ فَصَدَّقَهُ بِذَلِكَ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. فَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْبَلْ قَوْلَ الْوَاقِعِ فِي مَالِكِ بْنِ الدُّخْشُنِ بِأَنَّهُ مُنَافِقٌ حَتَّى تَبَيَّنَ لَهُ مِنْ أَيْنَ يَقُولُ ذَلِكَ؛ ثُمَّ لَمَّا بَيَّنَهُ، لَمْ يَرَهُ نِفَاقًا، فَرَدَّ عَلَيْهِ قَوْلَهُ.
محمود بن ربیع انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: میں نابینا ہوں اور اپنی قوم کا امام ہوں۔ جب بارش ہوتی ہے تو میرے اور ان کے درمیان وادی بہہ پڑتی ہے اور میں مسجد میں نہیں آسکتا کہ ان کو نماز پڑھاؤں۔ میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر تشریف لائیں اور نماز پڑھیں، تاکہ میں اس کو اپنی نماز کی جگہ مقرر کرلوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میں ایسا کر لوں گا۔“ عتبان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: صبح کے وقت دن کے بلند ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت مانگی، میں نے اجازت دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں داخل ہونے کے بعد بیٹھے نہیں بلکہ فرمایا: ”کہاں پسند کرتے ہو کہ میں نماز پڑھوں؟“ کہتے ہیں: میں نے گھر کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم نے آپ کے پیچھے صفیں بنالیں، آپ نے دو رکعت نماز پڑھ کر سلام پھیرا۔ ہم نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا تھا اس کے لیے روکا۔ گھر کے افراد کو بلایا اور وہ جمع ہوگئے۔ کہنے والے نے کہا: مالک بن دخشن کہاں ہے؟ بعض نے کہا: یہ منافق ہے، اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت نہیں کرتا۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسے نہ کہو، کیا اس نے کلمہ اللہ کی خوشنودی کے لیے نہیں پڑھا؟“ اس نے کہا: اللہ اور رسول بہتر جانتے ہیں۔ کہتے ہیں: ہم تو اس کی خوشنودی اور خیر خواہی منافقین کی طرف دیکھتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے اللہ کی خوشنودی کے لیے کلمہ پڑھا اللہ نے اس پر جہنم کی آگ حرام کردی ہے۔“ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پھر میں نے حصین بن محمد انصاری رحمہ اللہ سے سوال کیا جو بنو سالم کے ایک آدمی ہیں اور ان کے سردار ہیں تو انھوں نے بھی محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ کی حدیث کی تصدیق کی۔
(ب) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک بن دخشن کے بارے میں کہنے والے کی یہ بات قبول نہ کی کہ وہ منافق ہے، یہاں تک کہ وضاحت ہوگئی کہ وہ کس بنیاد پر کہہ رہا ہے، پھر جب اس نے وضاحت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نفاق نہ سمجھا اور اس کا قول رد کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20392]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20393
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، أنبأ حَاجِبُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ مُنِيبٍ، ثنا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ:" الْعَدْلُ فِي الْمُسْلِمِينَ مَنْ لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ:" وَهَذَا عِنْدَنَا فِيمَنْ ثَبَتَتْ عَدَالَتُهُ فَهُوَ عَلَى أَصْلِ الْعَدَالَةِ مَا لَمْ يَظْهَرْ مِنْهُ رِيبَةٌ وَاللهُ أَعْلَمُ.
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان کو عادل ہی شمار کریں گے جب تک اس میں شک نہ پیدا ہو جائے
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمارے نزدیک بھی جب تک عدالت ثابت ہے تو وہ عادل ہی ہے جب تک شک پیدا نہ ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20393]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں