السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4060. -- باب:: ما يفعل بشاهد الزور
-- باب: جھوٹے گواہ کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔
حدیث نمبر: 20491
أَخْبَرَنَا الشَّرِيفُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شَرِيكٌ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِشَاهِدِ زُورٍ، فَوَقَفَهُ لِلنَّاسِ يَوْمًا إِلَى اللَّيْلِ يَقُولُ:" هَذَا فُلَانٌ، يَشْهَدُ بِزُورٍ فَاعْرِفُوهُ"، ثُمَّ حَبَسَهُ. وَرَوَاهُ أَبُو الرَّبِيعِ، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَاصِمٍ وَزَادَ فِيهِ:" فَجَلَدَهُ وَأَقَامَهُ لِلنَّاسِ".
عبداللہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جھوٹی گواہی دینے والے کو لایا گیا، انہوں نے اسے ایک دن رات تک لوگوں کے سامنے کھڑا رکھا اور فرماتے رہے: یہ جھوٹی گواہی دینے والا ہے اس کو پہچان لو، پھر اس کو قید کر دیتے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20491]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20492
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنَّهُ ظَهَرَ عَلَى شَاهِدِ زُورٍ فَضَرَبَهُ أَحَدَ عَشَرَ سَوْطًا، ثُمَّ قَالَ:" لَا تَأْسِرُوا النَّاسَ بِشُهُودِ الزُّورِ، فَإِنَّا لَا نَقْبَلُ مِنَ الشُّهُودِ إِلَّا الْعَدْلَ".
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے گواہ کو گیارہ کوڑے لگائے، پھر فرمایا: جھوٹے گواہوں کے ذریعے لوگوں کو قید نہ کرو، کیونکہ ہم گواہوں میں سے صرف عادل کی گواہی قبول کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20492]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20493
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خِمَيْرَوَيْهِ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ، وَعَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" ضَرَبَ شَاهِدَ الزُّورِ أَرْبَعِينَ سَوْطًا، وَسَخَمَ وَجْهَهُ، وَطَافَ بِهِ بِالْمَدِينَةِ".
مکحول اور عطیہ بن قیس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے لگائے، چہرہ سیاہ کر کے مدینہ کا چکر لگوایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20493]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20494
قَالَ: وَثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي كُورِ الشَّامِ فِي شَاهِدِ الزُّورِ:" أَنْ يُجْلَدَ أَرْبَعِينَ، وَيُحْلَقَ رَأْسُهُ، وَيُسْخَمَ وَجْهُهُ، وَيُطَافَ بِهِ، وَيُطَالَ حَبْسُهُ". هَاتَانِ الرِّوَايَتَانِ ضَعِيفَتَانِ وَمُنْقَطِعَتَانِ، وَالرِّوَايَتَانِ الْأُولَيَانِ مَوْصُولَتَانِ، إِلَّا أَنَّ فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا مَنْ لَا يُحْتَجُّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَقَدْ رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْحُدُودِ الْحَدِيثَ الثَّابِتَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ نِيَارٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا يُجْلَدْ فَوْقَ عَشْرِ جَلَدَاتٍ إِلَّا فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللهِ". وَالْأَخْذُ بِهِ أَوْلَى، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
مکحول سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنے عمال کو شام کی بستیوں میں لکھا کہ جھوٹے گواہ کو چالیس کوڑے لگائے جائیں، سر مونڈا جائے، منہ سیاہ کیا جائے، شہر کا چکر لگایا جائے اور لمبی مدت قید کیا جائے۔
(ب) سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس کوڑوں سے زیادہ صرف حدود اللہ میں لگائے جائیں۔“
یہ دونوں روایتیں ضعیف اور منقطع ہیں، اور پہلی دونوں روایتیں متصل ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک میں ایسا راوی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی، واللہ اعلم۔ اور ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ والی ثابت حدیث پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20494]
(ب) سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دس کوڑوں سے زیادہ صرف حدود اللہ میں لگائے جائیں۔“
یہ دونوں روایتیں ضعیف اور منقطع ہیں، اور پہلی دونوں روایتیں متصل ہیں، مگر ان میں سے ہر ایک میں ایسا راوی ہے جس سے حجت نہیں پکڑی جاتی، واللہ اعلم۔ اور ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ والی ثابت حدیث پر عمل کرنا زیادہ بہتر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20494]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20495
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَامِينَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ حُسَيْنٍ يَقُولُ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا أَخَذَ شَاهِدَ زُورٍ بَعَثَ بِهِ إِلَى عَشِيرَتِهِ فَقَالَ:" إِنَّ هَذَا شَاهِدُ زُورٍ فَاعْرِفُوهُ، وَعَرِّفُوهُ" ثُمَّ خَلَّى سَبِيلَهُ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: قُلْتُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ: هَلْ كَانَ فِيهِ ضَرْبٌ؟ قَالَ: لَا". وَهَذَا أَيْضًا مُنْقَطِعٌ.
علی بن حسین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بھی جھوٹے گواہ کو پکڑتے تو اسے اس کے قبیلے کی طرف روانہ کرتے اور فرماتے: ”یہ جھوٹا گواہ ہے، تم اسے پہچان لو اور اس کی پہچان کراؤ۔“ پھر اس کا راستہ چھوڑ دیتے۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس میں مارنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20495]
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں نے علی بن حسین رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا اس میں مارنا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں۔
یہ روایت بھی منقطع ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20495]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20496
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ جَعْدِ بْنِ ذَكْوَانَ، قَالَ: أُتِيَ شُرَيْحٌ بِشَاهِدِ زُورٍ، فَنَزَعَ عِمَامَتَهُ وَخَفَقَهُ خَفَقَاتٍ، وَعَرَفَهُ أَهْلُ الْمَسْجِدِ".
جعد بن ذکوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک جھوٹا گواہ لایا گیا، انہوں نے اس کی پگڑی اتاری، اسے چند ہلکی ضربیں لگائیں اور مسجد والوں نے اسے پہچان لیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20496]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 20497
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ:" أَنَّ شُرَيْحًا كَانَ يُؤْتَى بِشَاهِدِ الزُّورِ، فَيَطُوفُ بِهِ فِي أَهْلِ مَسْجِدِهِ وَسُوقِهِ فَيَقُولُ:" إِنَّا قَدْ زَيَّفْنَا شَهَادَةَ هَذَا".
سفیان رحمہ اللہ حضرت ابو حصین رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ شریح رحمہ اللہ کے پاس جھوٹا گواہ لایا جاتا تو وہ بازار اور مسجد کا چکر لگواتے اور فرماتے: ہم نے اس کی گواہی کو باطل قرار دے دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ آدَابِ القَاضِي/حدیث: 20497]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن