🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4066. -- باب: الاختيار في الإشهاد
-- باب: گواہ بنانے میں انتخاب (بہتر گواہ چننے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20517
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى بْنِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبِي، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ يَدْعُونَ اللهَ، فَلَا يُسْتَجَابُ لَهُمْ: رَجُلٌ كَانَتْ تَحْتَهُ امْرَأَةٌ سَيِّئَةُ الْخُلُقِ فَلَمْ يُطَلِّقْهَا، وَرَجُلٌ كَانَ لَهُ عَلَى رَجُلٍ مَالٌ فَلَمْ يُشْهِدْ عَلَيْهِ، وَرَجُلٌ آتَى سَفِيهًا مَالَهُ، وَقَدْ قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمْ} [النساء: ٥] ".
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کی دعا اللہ قبول نہیں فرماتا: ایک وہ جو برے اخلاق والی عورت کو طلاق نہیں دیتا، دوسرا وہ شخص جس کا کسی کے ذمہ قرض ہو اور وہ اس کی گواہی نہیں کرواتا، اور تیسرا وہ جو بیوقوف کو اس کا مال دے دیتا ہے، حالانکہ قرآن میں ہے: ﴿وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ﴾ [سورة النساء: 5] ”بیوقوفوں کو ان کے مال نہ دو۔“” [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20517]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20518
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ} [البقرة: ٢٨٢] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ:" إِنَّ أَوَّلَ مَنْ جَحَدَ آدَمُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، إِنَّ اللهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَرَاهُ ذُرِّيَّتَهُ، فَرَأَى رَجُلًا أَزْهَرَ سَاطِعًا نُورُهُ فَقَالَ: يَا رَبِّ، مَنْ هَذَا؟ قَالَ:" هَذَا ابْنُكَ دَاوُدُ"، قَالَ: يَا رَبِّ، فَمَا عُمُرُهُ؟ قَالَ:" سِتُّونَ سَنَةً"، قَالَ: يَا رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ، قَالَ:" لَا، إِلَّا أَنْ تَزِيدَهُ مِنْ عُمُرِكَ"، قَالَ: وَمَا عُمُرِي؟ قَالَ:" أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ آدَمُ: فَقَدْ وَهَبْتُ لَهُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ:" وَكَتَبَ اللهُ عَلَيْهِ كِتَابًا، وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتَهُ"، فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ، وَجَاءَتْهُ الْمَلَائِكَةُ قَالَ: إِنَّهُ بَقِيَ مِنْ عُمْرِي أَرْبَعُونَ سَنَةً، قَالُوا: إِنَّهُ قَدْ وَهَبْتَهُ لِابْنِكَ دَاوُدَ، قَالَ: مَا وَهَبْتُ لِأَحَدٍ شَيْئًا، فَأَخْرَجَ اللهُ الْكِتَابَ، وَشَهَّدَ عَلَيْهِ مَلَائِكَتَهُ"..
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے اس قول ﴿إِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ إِلَى أَجَلٍ مُسَمًّى فَاكْتُبُوهُ﴾ [سورة البقرة: 282] ”جب تم ادھار لین دین کرو وقت مقرر تک تو لکھ لیا کرو۔“ کے بارے میں فرمایا: ”پہلا جھگڑا آدم نے اللہ سے کیا، جب اللہ نے اس کو اس کی اولاد دکھائی۔ ایک آدمی کو دیکھا جس کی پیشانی چمک رہی تھی، پوچھا: اے میرے رب! یہ کون ہے؟ فرمایا: یہ تیرا بیٹا داؤد ہے، پوچھا: اے میرے رب! اس کی عمر کتنی ہے؟ فرمایا: 60 سال۔ کہا: اے میرے رب! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ فرمایا: نہیں، لیکن اپنی عمر میں سے کچھ اضافہ کر دو۔ پوچھا: میری عمر کتنی ہے؟ فرمایا: ہزار سال۔ آدم نے عرض کیا: میں نے چالیس اس کو ہبہ کر دیے۔ اللہ نے لکھ لیا اور فرشتوں کو گواہ بنا لیا۔ جب آدم کی موت کا وقت آیا اور فرشتے حاضر ہوئے تو وہ کہنے لگے: میری عمر کے چالیس برس باقی ہیں۔ فرمایا: تو نے اپنے بیٹے داؤد کو ہبہ کر دیے تھے۔ کہنے لگے: میں نے کچھ بھی ہبہ نہیں کیا، اللہ نے لکھا ہوا نکالا اور فرشتوں نے گواہی دی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20518]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20519
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي أَوَّلِهِ: لَمَّا نَزَلَتْ آيَةُ الدَّيْنِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ:" فَأَكْمَلَ لِآدَمَ أَلْفَ سَنَةٍ، وَلِدَاوُدَ مِائَةَ سَنَةٍ".
حماد بن سلمہ رحمہ اللہ نے اس کے مثل ذکر کیا ہے، لیکن اس کی ابتدا میں ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے آیتِ دَین نازل کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اور اس کے آخر میں ہے کہ ”سیدنا آدم علیہ السلام کے لیے مکمل ہزار سال اور ان کے بیٹے داؤد علیہ السلام کے لیے ایک سو سال کر دیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20519]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20520
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ الْقَاضِي، بِمِصْرَ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا خَلَقَ اللهُ آدَمَ وَنَفَخَ فِيهِ الرُّوحَ عَطَسَ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ، فَحَمِدَ اللهَ بِإِذْنِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ رَبُّهُ:" رَحِمَكَ رَبُّكَ يَا آدَمُ"، فَقَالَ لَهُ: يَا آدَمُ اذْهَبْ إِلَى أُولَئِكَ الْمَلَائِكَةِ، إِلَى مَلَأٍ ⦗٢٤٨⦘ مِنْهُمْ جُلُوسٍ، فَقُلِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ"، فَذَهَبَ، قَالُوا: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى رَبِّهِ فَقَالَ:" هَذِهِ تَحِيَّتُكَ، وَتَحِيَّةُ بَنِيكَ وَبَنِيهِمْ"، وَقَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، لَهُ وَيَدَاهُ مَقْبُوضَتَانِ:" اخْتَرْ أَيَّهُمَا شِئْتَ"، فَقَالَ: اخْتَرْتُ يَمِينَ رَبِّي - وَكِلْتَا يَدَيْ رَبِّي يَمِينٌ مُبَارَكَةٌ، ثُمَّ بَسَطَهَا، فَإِذَا فِيهَا آدَمُ وَذُرِّيَّتُهُ، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، مَا هَؤُلَاءِ؟ قَالَ:" هَؤُلَاءِ ذُرِّيَّتُكَ"، فَإِذَا كُلُّ إِنْسَانٍ مَكْتُوبٌ عُمُرُهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ، وَإِذَا فِيهِمْ رَجُلٌ أَضْوَأُهُمْ، أَوْ قَالَ: مِنْ أَضْوَئِهِمْ، لَمْ يُكْتَبْ لَهُ إِلَّا أَرْبَعُونَ سَنَةً، فَقَالَ: أَيْ رَبِّ، زِدْ فِي عُمُرِهِ، قَالَ:" ذَاكَ الَّذِي كُتِبَ لَهُ"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُ لَهُ مِنْ عُمُرِي سِتِّينَ سَنَةً، قَالَ:" أَنْتَ وَذَاكَ"، قَالَ: ثُمَّ أُسْكِنَ الْجَنَّةَ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ أُهْبِطَ مِنْهَا، وَكَانَ آدَمُ يَعُدُّ لِنَفْسِهِ، فَأَتَاهُ مَلَكُ الْمَوْتِ، فَقَالَ لَهُ آدَمُ: قَدْ عَجَّلْتَ، قَدْ كُتِبَتْ لِي أَلْفُ سَنَةٍ، قَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّكَ جَعَلْتَ لِابْنِكَ دَاوُدَ مِنْهَا سِتِّينَ سَنَةً، فَجَحَدَ، فَجَحَدَتْ ذُرِّيَّتُهُ، وَنَسِيَ فَنَسِيَتْ ذُرِّيَّتُهُ، فَيَوْمَئِذٍ أُمِرَ بِالْكِتَابِ وَالشُّهُودِ".
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ نے آدم کو پیدا فرمایا اور اس میں روح پھونکی، تو انہوں نے چھینک ماری اور کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“، انہوں نے اللہ کی اجازت سے اللہ کی حمد بیان کی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «يَرْحَمُكَ رَبُّكَ» ”تیرا رب تجھ پر رحم فرمائے“۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے آدم! فرشتوں کی اس جماعت کے پاس جو مجلس میں بیٹھی ہے جا کر سلام کہو۔ وہ گئے تو انہوں نے کہا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اور تم پر بھی سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“۔
پھر وہ اپنے رب کے پاس واپس آئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ تمہارا اور ان کا سلام ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا، جبکہ اس کے دونوں ہاتھ بند تھے: جو چاہے اختیار کر۔ انہوں نے عرض کی: میں نے اپنے رب کے دائیں ہاتھ کو پسند کیا اور میرے رب کے دونوں ہاتھ دائیں اور بابرکت ہیں۔ پھر ہاتھ کھولا تو اس میں آدم اور ان کی اولاد تھی۔ انہوں نے عرض کی: اے میرے رب! یہ کیا ہے؟ فرمایا: تیری اولاد۔ ہر انسان کی عمر اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھی ہوئی تھی۔
ان میں سے ایک آدمی پیشانی کے اعتبار سے زیادہ چمکدار تھا اور اس کی عمر کے متعلق صرف چالیس سال لکھا ہوا تھا، انہوں نے عرض کی: اے اللہ! اس کی عمر میں اضافہ فرما۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اس کی بس اتنی ہی عمر ہے، انہوں نے عرض کی: میری عمر کے ساٹھ سال اس کو دے دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: یہ آپ کا اور اس کا معاملہ ہے، پھر وہ جنت میں ٹھہرے جتنی دیر اللہ نے چاہا، پھر وہاں سے اترے۔ حضرت آدم اپنی عمر شمار کرتے رہے، جب موت کا فرشتہ آیا تو آدم نے فرمایا: تو نے جلدی کی، میری عمر تو ہزار سال ہے، فرشتے نے کہا: کیوں نہیں؟ لیکن آپ نے اپنے بیٹے داؤد کو ساٹھ سال دے دیے تھے۔ پس انہوں نے انکار کر دیا، ان کی اولاد نے بھی انکار کیا۔ آدم بھول گئے تو ان کی اولاد بھی بھول گئی۔ اس دن سے لکھنے اور گواہ بنانے کا حکم دیا گیا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20520]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں