السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4080. -- باب:: كراهية التسارع إلى الشهادة وصاحبها بها عالم حتى يستشهده
-- باب: گواہی دینے میں جلد بازی کرنے کی کراہت جبکہ گواہ کو اس کا علم ہو یہاں تک کہ اس سے گواہی طلب کی جائے۔
حدیث نمبر: 20598
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، وَأَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ"، قَالَ: وَلَا أَدْرِي قَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ:" ثُمَّ يَخْلُفُ بَعْدَهُمْ خَلْفٌ يَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ، وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَزْهَرَ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ.
(٢٠٥٩٨) حضرت عبداللہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہترین لوگ میرے زمانہ کے ہیں، پھر جو ان کے ساتھ ملیں، پھر جو ان کے ساتھ ملیں۔ راوی کہتے ہیں: مجھے معلوم نہیں تیسری یا چوتھی مرتبہ بھی کہا۔ پھر ان کے بعد لوگ آئیں گے، ان کی گواہی قسم سے سبقت لے جائے گی اور قسم گواہی سے سبقت لے جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20598]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20599
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، وَأَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَنْشَأُ قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ" قَالَ أَبُو الْفَضْلِ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ:" يَحْلِفُونَ" لَيْسَ إِلَّا فِي حَدِيثِ هِشَامٍ مِنْ أَصْحَابِ قَتَادَةَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ بِزِيَادَتِهِ وَهَذِهِ زِيَادَةٌ يَنْفَرِدُ بِهَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ.
(٢٠٥٩٩) سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرا دور بہترین ہے پھر جو ان کے بعد آئیں گے۔ پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے لیکن پوری نہ کریں گے۔ قسم اٹھائیں گے لیکن ان سے قسم طلب نہ کی جائے گی۔ خیانت کریں گے امین نہ ہوں گے۔ گواہی دیں گے لیکن گواہی طلب نہ کی جائے گی۔ ان میں موٹاپا عام ہوگا۔
ابوالفضل اپنی حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سلمہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ قسم اٹھائیں گے۔ یہ الفاظ صرف ابوقتادہ کے شاگرد ہی بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20599]
ابوالفضل اپنی حدیث میں نقل فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سلمہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ وہ قسم اٹھائیں گے۔ یہ الفاظ صرف ابوقتادہ کے شاگرد ہی بیان کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20599]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20600
وَقَدْ حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ ⦗٢٧٠⦘ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِي بُعِثْتُ فِيهِمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ يَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ، وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ، وَيَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ، وَيَفْشُو فِيهُمُ السِّمَنُ". هَكَذَا رَوَاهُ سَائِرُ أَصْحَابِ هِشَامٍ، لَيْسَ فِيهِ ذِكْرُ الْحَلِفِ، وَذِكْرُ الْحَلِفِ فِيهِ إِنْ كَانَ حَفِظَهُ مُعَاذٌ يُوَافِقُ حَدِيثَ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْمُرَادُ بِذَلِكَ فِي الشَّهَادَةِ أَنْ يَشْهَدَ بِمَا لَمْ يَشْهَدْ عَلَيْهِ، وَلَمْ يَعْلَمْهُ، فَيَكُونَ شَاهِدَ زُورٍ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ وَالْعِصْمَةُ.
(٢٠٦٠٠) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، جس میں میں مبعوث کیا گیا، پھر ان کے بعد والا۔ پھر ان کے بعد والا۔ پھر ایسی قوم آئے گی جو نذریں مانیں گے اور پوری نہ کریں گے، خیانت کریں گے امانت دار نہ ہوں گے۔ گواہی دیں گے لیکن ان سے گواہی طلب نہ کی جائے گی۔ ان میں موٹاپا عام ہوگا، اس طرح ہشام کے تمام شاگرد نقل فرماتے ہیں لیکن قسم کا تذکرہ نہیں۔ اگر معاذ کو یاد ہو تو اس میں قسم کا تذکرہ ہے، وہ ابن مسعود کی موافقت کرتے ہیں۔ شہادت سے مراد یہ ہے کہ اس کی شہادت دی جائے جواب خلاف گواہی نہ دے۔ وہ اس کو جانتا بھی نہ ہو تو یہ جھوٹی گواہی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20600]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح