السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4088. -- باب:: لا يجوز شهادة غير عدل
-- باب: غیر عادل شخص کی گواہی جائز نہیں۔
حدیث نمبر: Q20631
قَالَ اللهُ جَلَّ ثَنَاؤُهُ: {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: 2] وَقَالَ: {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: 282] قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" وَإِنَّا لَا نَرْضَى أَهْلَ الْفِسْقِ مِنَّا، وَإِنَّ الرِّضَا إِنَّمَا يَقَعُ عَلَى الْعُدُولِ مِنَّا"..
اللہ جل ثناؤہ کا فرمان ہے: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ ”اور اپنے میں سے دو عادل آدمیوں کو گواہ بنا لو۔“ [سورة الطلاق: 2]
اور فرمایا: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہم اپنے میں سے فاسق لوگوں کو پسند نہیں کرتے، اور پسندیدگی کا اطلاق تو صرف ہمارے عادل لوگوں پر ہی ہوتا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20631]
اور فرمایا: ﴿مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ﴾ ”ان گواہوں میں سے جنہیں تم پسند کرتے ہو۔“ [سورة البقرة: 282]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور ہم اپنے میں سے فاسق لوگوں کو پسند نہیں کرتے، اور پسندیدگی کا اطلاق تو صرف ہمارے عادل لوگوں پر ہی ہوتا ہے...“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q20631]
حدیث نمبر: 20631
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّهُ قَالَ: قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَجُلٌ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ: جِئْتُكَ لِأَمْرٍ مَا لَهُ رَأْسٌ وَلَا ذَنَبٌ، قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" وَمَا هُوَ؟"، قَالَ: شَهَادَاتُ الزُّورِ ظَهَرَتْ بِأَرْضِنَا، قَالَ:" وَقَدْ كَانَ ذَلِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا وَاللهِ، لَا يُؤْسَرُ رَجُلٌ فِي الْإِسْلَامِ بِغَيْرِ الْعُدُولِ". قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ:" لَا يُؤْسَرُ: يَعْنِي: لَا يُحْبَسُ".
ربیعہ بن ابی عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے ایک آدمی آیا، اس نے کہا: میں آپ کے پاس ایسا معاملہ لے کر آیا ہوں جس کا نہ سر ہے نہ پیر۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: وہ کیا ہے؟ اس نے کہا: جھوٹی گواہی جو ہمارے علاقہ میں پائی جانے لگی ہے۔ فرمایا: کیا واقعی ایسا ہوا ہے؟ اس نے کہا: ہاں، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: نہیں، اللہ کی قسم! اسلام میں کسی آدمی کو عادل گواہوں کے بغیر قید نہیں کیا جائے گا۔
ابو عبید نے کہا: «لا يؤسر» کا مطلب ہے کہ اسے قید نہ کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20631]
ابو عبید نے کہا: «لا يؤسر» کا مطلب ہے کہ اسے قید نہ کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20631]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20632
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، قَالَ:" ادْعُ مَا شِئْتَ، وَائْتِ بِشُهُودٍ عُدُولٍ، فَإِنَّا أُمِرْنَا بِالْعُدُولِ، وَائْتِ فَسَلْ عَنْهُ"، قَالَ: وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ابن سیرین رحمہ اللہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو چاہو دعویٰ کرو، لیکن گواہ عادل لاؤ، ہمارا فیصلہ ہی عادل گواہ کی وجہ سے ہے اور اس کے بارے میں سوال کرو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20632]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن