🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4094. -- باب:: ما جاء في الافتداء عن اليمين، ومن رخص فيها إذا كان محقا
-- باب: قسم سے فدیہ دے کر بچنے اور جو شخص حق پر ہو اس کے لیے قسم اٹھانے میں رخصت کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20713
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْبَغَوِيُّ قَالَا: ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الرُّؤَاسِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ حَسَّانَ بْنِ ثُمَامَةَ، قَالَ:" زَعَمُوا أَنَّ حُذَيْفَةَ عَرَفَ جَمَلًا لَهُ سُرِقَ، فَخَاصَمَ فِيهِ إِلَى قَاضِي الْمُسْلِمِينَ، فَصَارَتْ عَلَى حُذَيْفَةَ يَمِينٌ فِي الْقَضَاءِ، فَأَرَادَ أَنْ يَشْتَرِيَ يَمِينَهُ فَقَالَ:" لَكَ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" لَكَ عِشْرُونَ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" لَكَ ثَلَاثُونَ"، فَأَبَى، فَقَالَ:" لَكَ أَرْبَعُونَ"، فَأَبَى، فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَتْرُكُ جَمَلِي؟ فَحَلَفَ أَنَّهُ جَمَلُهُ، مَا بَاعَهُ وَلَا وَهَبَهُ". وَيُذْكَرُ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ أَنَّهُ: فَدَى يَمِينَهُ بِعَشْرَةِ آلَافِ دِرْهَمٍ وَيُذْكَرُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خُصُومَةٍ كَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ مُعَاذِ بْنِ عَفْرَاءَ فِي شَيْءٍ، قَالَ: فَحَلَفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ قَالَ: أَتَرَانِي أَنِّي قَدِ اسْتَحْقَقْتُهَا بِيَمِينِي؟ اذْهَبِ الْآنَ، فَهِيَ لَكَ".
اسود بن قیس حضرت حسان بن ثمامہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا گمان تھا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اپنا چوری شدہ اونٹ پہچان لیا تو جھگڑا مسلمانوں کے قاضی کے پاس چلا گیا۔ فیصلے میں سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ پر قسم ڈال دی گئی تو انہوں نے قسم کا معاوضہ دینا چاہا۔ کہا: تیرے لیے دس درہم۔ اس نے انکار کر دیا۔ چلو بیس درہم۔ اس نے پھر انکار کر دیا۔ تیس درہم۔ اس نے انکار کر دیا۔ کہا: چالیس درہم۔ اس نے انکار کر دیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: کیا میں اپنا اونٹ چھوڑ دوں؟ پھر انہوں نے قسم اٹھائی کہ یہ اونٹ ان کا ہے، نہ انہوں نے بیچا اور نہ ہی ہبہ کیا ہے۔
(ب) سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مذکور ہے کہ انہوں نے اپنی قسم کے بدلے دس ہزار درہم فدیہ دیا۔
(ج) سیدنا عمر بن خطاب اور سیدنا معاذ بن عفراء رضی اللہ عنہما کے درمیان جھگڑا تھا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قسم اٹھائی۔ پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ میں نے اپنی قسم کے ذریعے اس کا حق حاصل کیا ہے؟ جاؤ اب یہ چیز بھی تیری ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20713]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں