السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4106. -- باب:: من جرب بشهادة زور لم تقبل شهادته
-- باب: جسے جھوٹی گواہی دینے میں آزمایا جا چکا ہو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 20829
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الْأَدِيبُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْإِسْمَاعِيلِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَنَسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَوْلُ الزُّورِ" أَوْ قَالَ:" شَهَادَةُ الزُّورِ". أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَرْزُوقٍ.
(٢٠٨٢٩) حضرت انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سب سے بڑا کبیرہ گناہ شرک، کسی جان کو ناحق قتل کرنا، والدین کی نافرمانی کرنا، جھوٹی بات یا جھوٹی گواہی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20829]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20830
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ قَالَا: أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ أَبِي خِدَاشٍ، ثنا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ، قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ قَالَ فِيهِ:" الْمُسْلِمُونَ عُدُولٌ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ إِلَّا مَجْلُودٌ فِي حَدٍّ، أَوْ مُجَرَّبٌ فِي شَهَادَةِ زُورٍ، أَوْ ظَنِينٌ فِي وَلَاءٍ أَوْ قَرَابَةٍ".
(٢٠٨٣٠) ابوملیح ہذلی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو خط لکھا۔ اس نے حدیث کو ذکر کیا، اس میں ہے کہ مسلمان ایک دوسرے کا فیصلہ کرسکتے ہیں، سوائے اس جس کو حد کی وجہ سے سزا ملی ہو اور اس پر جھوٹی گواہی کا تجربہ ہو اور نیت اور قرابت داری کے اندر تہمت ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20830]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 20283»
الحكم على الحديث: صحيح