السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4126. -- باب:: ما جاء في المراجيح
-- باب: جھولے جھولنے کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 20984
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الدَّارِمِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ أَمْلَاهُ عَلَيْنَا، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسِتِّ سِنِينَ، وَبَنَى بِي وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعِ سِنِينَ"، قَالَتْ:" فَقَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَوُعِكْتُ شَهْرًا، فَوَافَى شَعْرِي جُمَيْمَةً، فَأَتَتْنِي أُمُّ رُومَانَ وَأَنَا عَلَى أُرْجُوحَةٍ وَمَعِي صَوَاحِبِي، فَصَرَخَتْ بِي، فَأَتَيْتُهَا وَمَا أَدْرِي مَا يُرَادُ بِي، فَأَخَذَتْ بِيَدِي فَأَوْقَفَتْنِي عَلَى الْبَابِ، فَقُلْتُ: هَذِهِ، هَذِهِ، حَتَّى ذَهَبَ نَفَسِي، فَأَدْخَلَتْنِي بَيْتًا، فَإِذَا نِسْوَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَقُلْنَ: عَلَى الْخَيْرِ وَالْبَرَكَةِ، وعَلَى خَيْرِ طَائِرٍ، فَأَسْلَمَتْنِي إِلَيْهِنَّ، فَغَسَلْنَ رَأْسِي وَأَصْلَحْنَنِي، فَلَمْ يَرُعْنِي إِلَّا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَسْلَمْنَنِي إِلَيْهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ هِشَامٍ.
(٢٠٩٨٤) ہشام بن عروہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شادی کی تو میری عمر ٦ برس کی تھی اور میری رخصتی ہوئی تو میری عمر ٩ سال کی تھی۔ میں مدینہ آئی تو مہینہ بھر بخار رہا، میرے جہمیہ بال تھے۔ میرے پاس ام رومان آئیں، میں اپنی سہلیوں کے ساتھ جھولے پر تھی۔ انھوں نے مجھے پکارا، میں ان کے پاس آئی۔ مجھے معلوم نہ تھا ان کا ارادہ کیا ہے، اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر دروازے کی دہلیز پر لے آئیں۔ میں نے کہا: یہ کیا، یہاں تک کہ میرے دل کا خوف ختم ہوگیا۔ اس نے مجھے گھر میں داخل کردیا، جہاں انصاری عورتیں تھیں، انھوں نے کہا: آپ کے لیے خیر و برکت ہو۔ اس نے مجھے ان عورتوں کے سپردکر دیا۔ انھوں نے میرا سر دھویا اور مجھے تیار کیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے دیکھا تو ان عورتوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سپرد کردیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20984]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 20985
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ الْأَوْدِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" تَزَوَّجَنِي"، يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" لِسِتِّ سِنِينَ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ نَزَلْنَا السُّنْحَ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ"، قَالَتْ:" فَإِنِّي لَأَرْجِحُ بَيْنَ عِذْقَيْنِ وَأَنَا ابْنَةُ تِسْعٍ، إِذْ جَاءَتْ أُمِّي فَأَنْزَلَتْنِي، ثُمَّ مَشَتْ بِي حَتَّى انْتَهَتْ بِي إِلَى الْبَابِ وَأَنَا أُنْهِجُ، فَمَسَحَتْ وَجْهِي بِشَيْءٍ مِنْ مَاءٍ، وَفَرَقَتْ جُمَيْمَةً كَانَتْ لِي، وَدَخَلَتْ بِي عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ رِجَالٌ وَنِسَاءٌ، فَقَالَتْ: هَؤُلَاءِ أَهْلُكَ، فَبَارَكَ اللهُ لَكَ فِيهِمْ، وَبَارَكْ لَهُمْ فِيكَ، وَقَامَ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ وَخَرَجُوا، وَبَنَى بِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
(٢٠٩٨٥) عبدالرحمن بن حاطب فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ میری شادی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ٦ سال کی عمر میں ہوئی۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو بنو حارث بن خزرج کے ہاں باغ میں اترے۔ میں نے دو خوشوں کے درمیان ایک کو ترجیح دی تھی۔ اس وقت میری عمر ٩ برس کی تھی۔ اچانک میری والدہ میرے پاس آئی۔ مجھے لے کر چلی اور دروازے تک جا پہنچی۔ میں تھک چکی تھی۔ میری والدہ نے میرے چہرہ پانی سے صاف کیا اور میری مانگ نکالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چھوڑ آئیں۔ وہاں انصاری عورتیں تھیں اور مرد بھی۔ وہ کہنیلگیں: یہ آپ کا گھر ہے اللہ آپ کو برکت دے اور ان کو آپ کے لیے برکت دے۔ مرد اور عورتیں چل گئیں اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے بنا کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20985]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 20986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ صَفْوَانَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الدُّنْيَا، حَدَّثَنِي أَبِي، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ زِيَادٍ أَبِي عُمَرَ، عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيلِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَمَرَ بِقَطْعِ الْمَرَاجِيحِ.. هَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ مَوْصُولًا وَلَيْسَ بِشَيْءٍ، وَكَانَ أَبُو بُرْدَةَ، وَطَلْحَةُ بْنُ مُصَرِّفٍ يَكْرَهَانِهَا.
(٢٠٩٨٦) صالح ابو الجلیل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جھولوں کو کاٹنے کا حکم دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 20986]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف