السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4132. -- باب:: لا بأس باستماع الحداء، ونشيد الأعراب، كثر أو قل
-- باب: حدی خوانی اور دیہاتیوں کے اشعار سننے میں کوئی حرج نہیں، خواہ وہ کم ہوں یا زیادہ۔
حدیث نمبر: 21038
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، ثنا قَطَنُ بْنُ نُسَيْرٍ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ثَابِتٌ، قَالَ قَطَنٌ: أَحْسِبُهُ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ فَقَامَ أَهْلُهَا سِمَاطَيْنِ يَنْظُرُونَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِلَى أَصْحَابِهِ، قَالَ: وَابْنُ رَوَاحَةَ يَمْشِي بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ رَوَاحَةَ:.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے، اس کے رہنے والے دو قطاروں میں کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھ رہے تھے اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے چل رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
اے کفار! آج اس کا راستہ چھوڑ دو۔
آج اس کے مقابلے میں آنے والے کی ہم گردن اتار دیں گے۔
جو کھوپڑیاں تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے دور کر دیں۔
اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان لانے والا ہوں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعار کہہ رہے ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! رک جا۔ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ کلام ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت واقع ہو رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک سوار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ان کے ساتھ ایک حدی خواں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21038]
اے کفار! آج اس کا راستہ چھوڑ دو۔
آج اس کے مقابلے میں آنے والے کی ہم گردن اتار دیں گے۔
جو کھوپڑیاں تن سے جدا کر دیں گے اور دوست کو دوست سے دور کر دیں۔
اے میرے رب! میں اس کی بات پر ایمان لانے والا ہوں۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اے ابن رواحہ! حرم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اشعار کہہ رہے ہو؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! رک جا۔ اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ کلام ان پر تیروں سے بھی زیادہ سخت واقع ہو رہا ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بنو تمیم کے ایک سوار نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پا لیا اور ان کے ساتھ ایک حدی خواں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21038]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21039
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّزَّازُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسِيرُ إِلَى الشَّامِ، فَسَمِعَ حَادِيًا مِنَ اللَّيْلِ فَقَالَ:" أَسْرِعُوا بِنَا إِلَى هَذَا الْحَادِي"، قَالَ: فَأَسْرَعُوا حَتَّى أَدْرَكُوهُ فَسَلَّمَ فَقَالَ:" مَنِ الْقَوْمُ"، قَالُوا: مُضَرُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَنَحْنُ مِنْ مُضَرَ"، قَالَ: فَبَلَغَ تِلْكَ اللَّيْلَةَ بِالنِّسْبَةِ إِلَى مُضَرَ فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَا أَوَّلُ مَنْ حَدَا الْإِبِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، قَالَ:" فَكَيْفَ ذَاكَ"؟ قَالَ: أَغَارَ رَجُلٌ مِنَّا عَلَى إِبِلٍ فَاسْتَاقَهَا، فَجَعَلَ يَقُولُ لِغُلَامِهِ أَوْ لِأَجِيرِهِ: اجْمَعْهَا، فَيَأْبَى، فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَفَرَّقُ، فَضَرَبَهُ وَكَسَرَ يَدَهُ، فَجَعَلَ الْغُلَامُ يَقُولُ: وَايَدَاهْ وَايَدَاهْ فَجَعَلْتِ الْإِبِلُ تَجْتَمِعُ وَهُوَ يَقُولُ: قُلْ كَذَا، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَكُ. قَالَ سُفْيَانُ: وَزَادَ فِيهِ الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مُجَاهِدٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ حَادِيَنَا وَنَى".
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم شام کی طرف جا رہے تھے۔ راستے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت سواریوں کے چلانے والے کی آواز سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے جلدی اس حدی خواں کے پاس لے چلو۔“ راوی کہتے ہیں: انہوں نے جلدی کی اور وہاں تک جا پہنچے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کون سی قوم ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: مضر۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارا تعلق بھی مضر سے ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ اس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نسبت مضر کی طرف کی۔ ایک آدمی نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! دورِ جاہلیت میں سب سے پہلے میں نے اونٹوں کے لیے حدی خوانی کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کیسے؟“ اس نے کہا: ہمارے ایک آدمی نے کچھ اونٹوں پر دھاوا بولا اور انہیں ہانک لایا۔ وہ اپنے غلام یا مزدور سے کہہ رہا تھا: ان کو جمع کرو۔ اس نے انکار کر دیا اور اونٹ بکھرنے لگے، تو اس نے اسے مارا اور اس کا ہاتھ توڑ دیا۔ غلام کہنے لگا: ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ۔ تو اونٹ جمع ہونے لگے، اور وہ کہہ رہا تھا: اسی طرح کہو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنسنے لگے۔
(ب) مجاہد رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21039]
(ب) مجاہد رحمہ اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ ہماری سواریوں کو چلانے والے سست چلاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21039]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف