السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4141. -- باب:: من شبب فلم يسم أحدا، لم ترد شهادته
-- باب: جس نے عشقیہ اشعار کہے مگر کسی کا نام نہیں لیا تو اس کی گواہی رد نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: Q21142
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهُ يُمْكِنُ أَنْ يُشَبِّبَ بِامْرَأَتِهِ وَجَارِيَتِهِ.
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں ممکن ہے وہ اپنی بیوی یا لونڈی کے متعلق اشعار کہہ رہا ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: Q21142]
حدیث نمبر: 21142
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْأَسَدِيُّ، بِهَمَذَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ ذِي الرُّقَيْبَةِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ زُهَيْرِ بْنِ أَبِي سُلْمَى الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: خَرَجَ كَعْبٌ وَبُجَيْرٌ ابْنَا زُهَيْرٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي إِسْلَامِ بُجَيْرٍ، وَمَا كَانَ مِنْ شِعْرِ كَعْبٍ فِيهِ، ثُمَّ قُدُومَ كَعْبٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَإِسْلَامَهُ، وَإِنْشَادَهُ قَصِيدَتَهُ الَّتِي أَوَّلُهَا:.
(٢١١٤٢) کعب بن ہیربین ابی سلمی مزنی سے روایت ہے کہ کعب اور بجیرجو زہیر کے بیٹے تھے، نکلے۔ پھر لمبی حدیث ذکر کی۔ جس میں بجیر کے اسلام لانے کا قصہ ہے اور اس میں کعب کے شعروں کا تذکرہ ہے۔ پھر کعب کا نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آنا، اسلام قبول کرنا اور اس قصیدے کے اشعار پڑھناجو سب سے پہلے انھوں نے لکھا تھا۔
1 سعاد جدا ہو تو میرا دل آج بہت ادا س ہے
وہ اس کے پاس قید ہے اور اس کی قید سے نکلتا نہیں ہے
2 سعاد صبح کے وقت جدا ہوئی جب وہ (قافلے والے) روانہ ہوئے
تو میں اس وقت ناک میں گنگنا رہا تھا اور سرمگیں آنکھوں کے پیوٹے جھکے ہوئے تھے
3 جب وہ تبسم فرماتی تو دانتوں کی چمک ظاہر ہوجاتی
گویا کہ وہ میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو شیشے سے ڈھکا ہوا ہے
پھر انھوں نے ایک لمبا قصیدہ کہا جس میں اڑتالیس اشعار تھے اور اس میں یہ اشعار بھی تھے۔
1 مجھے بتلایا گیا کہ اللہ کے رسول نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
اور معافی اللہ کے رسول کے پاس ہے جس کی امید کی جاتی ہے
2 اس رسول کے پاس ٹھہرو جس نے تجھے ایسی چیز عطا کی ہے
جس میں وعظ نصیحت اور مکمل بیان ہے
3 تو چغل خور کی باتوں کو قبول نہ کر اور
نہ ہی میں نے کوئی جرم کیا ہے اگرچہ من گھڑت باتیں مجھ سے کثرت سے سر زد ہوئی ہیں
4 یہ رسول نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے
اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے سونتی ہوئی تلوار ہیں
5 قریش کے نوجوانوں میں سے کہنے والے نے کہا
جب سے انھوں نے اسلام قبول کیا اس وقت سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سعاد والے اشعار مسجد نبوی میں پڑھے، جب ان اشعار پر پہنچے۔
1 بیشک رسول نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ننگی تلوار ہیں۔
2 قریش کے نوجوانوں میں سے کسی نے کہا، جب سے وہ مسلمان ہوئے ہیں (یعنی صحابہ) تب سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ آئیں اور اس سے (اشعار) سنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21142]
1 سعاد جدا ہو تو میرا دل آج بہت ادا س ہے
وہ اس کے پاس قید ہے اور اس کی قید سے نکلتا نہیں ہے
2 سعاد صبح کے وقت جدا ہوئی جب وہ (قافلے والے) روانہ ہوئے
تو میں اس وقت ناک میں گنگنا رہا تھا اور سرمگیں آنکھوں کے پیوٹے جھکے ہوئے تھے
3 جب وہ تبسم فرماتی تو دانتوں کی چمک ظاہر ہوجاتی
گویا کہ وہ میٹھے پانی کا چشمہ ہے جو شیشے سے ڈھکا ہوا ہے
پھر انھوں نے ایک لمبا قصیدہ کہا جس میں اڑتالیس اشعار تھے اور اس میں یہ اشعار بھی تھے۔
1 مجھے بتلایا گیا کہ اللہ کے رسول نے مجھ سے وعدہ کیا ہے
اور معافی اللہ کے رسول کے پاس ہے جس کی امید کی جاتی ہے
2 اس رسول کے پاس ٹھہرو جس نے تجھے ایسی چیز عطا کی ہے
جس میں وعظ نصیحت اور مکمل بیان ہے
3 تو چغل خور کی باتوں کو قبول نہ کر اور
نہ ہی میں نے کوئی جرم کیا ہے اگرچہ من گھڑت باتیں مجھ سے کثرت سے سر زد ہوئی ہیں
4 یہ رسول نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے
اور وہ اللہ کی تلواروں میں سے سونتی ہوئی تلوار ہیں
5 قریش کے نوجوانوں میں سے کہنے والے نے کہا
جب سے انھوں نے اسلام قبول کیا اس وقت سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے کہ کعب بن زہیر نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سعاد والے اشعار مسجد نبوی میں پڑھے، جب ان اشعار پر پہنچے۔
1 بیشک رسول نور (ہدایت) ہیں جن سے روشنی حاصل کی جاتی ہے اور اللہ کی تلواروں میں سے ننگی تلوار ہیں۔
2 قریش کے نوجوانوں میں سے کسی نے کہا، جب سے وہ مسلمان ہوئے ہیں (یعنی صحابہ) تب سے مکہ کی وادی لرز رہی ہے۔
تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھوں سے لوگوں کو اشارہ کیا کہ وہ آئیں اور اس سے (اشعار) سنیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الشَّهَادَاتِ/حدیث: 21142]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف