السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4161. -- باب: المتداعيين يتنازعان شيئا في يد أحدهما، ويقيم كل واحد منهما على ذلك بينة
-- باب: دو دعویٰ کرنے والے کسی ایسی چیز پر جھگڑیں جو ان میں سے کسی ایک کے قبضے میں ہو، اور ان میں سے ہر ایک اس پر گواہ (دلیل) پیش کر دے۔
حدیث نمبر: Q21223
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ:" قِيلَ: قَدِ اسْتَوَيْتُمَا فِي الدَّعْوَى وَالْبَيِّنَةِ، وَلِلَّذِي هُوَ فِيِ يَدَيْهِ سَبَبٌ بِكَيْنُونَتِهِ فِي يَدِهِ هُوَ أَقْوَى مِنْ سَبَبِكَ، فَهُوَ لَهُ بفَضْلِ قُوَّةِ سَبَبِهِ، وَفِيهِ سُنَّةٌ بِمِثْلِ مَا قُلْنَا".
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”(اسے) کہا جائے گا: تم دونوں دعوے اور دلیل (گواہی) میں برابر ہو، اور جس کے قبضے میں وہ (چیز) ہے، اس کے پاس اس کے قبضے میں ہونے کی صورت میں ایک ایسا سبب موجود ہے جو تمہارے سبب سے زیادہ قوی ہے، لہٰذا وہ اس کے سبب کی زیادہ قوت کی بنا پر اسی کی ہو گی، اور اس بارے میں ہمارے قول کے مطابق سنت (بھی) موجود ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدَّعْوَى وَالبَيِّنَاتِ/حدیث: Q21223]
حدیث نمبر: 21223
فَذَكَرَ الْحَدِيثَ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِيُ يَحْيَى، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْحَكَمِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ رَجُلَيْنِ تَدَاعَيَا بِدَابَّةٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا دَابَّتُهُ نَتَجَهَا، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي هِيَ فِيُ يَدَيْهِ".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ دو لوگوں نے ایک جانور کے بارے میں دعویٰ کر دیا، دونوں کے پاس گواہ تھے کہ وہ اس کی سواری ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے فیصلہ فرمایا جس کے قبضے میں تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدَّعْوَى وَالبَيِّنَاتِ/حدیث: 21223]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21224
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَطِيرِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْخَوَّاصُ قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَنْصُورٍ أَبُو إِسْمَاعِيلَ الْفَقِيهُ، ثنا زَيْدُ بْنُ نُعَيْمٍ، بِبَغْدَادَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا أَبُو حَنِيفَةَ، عَنْ هَيْثَمٍ الصَّيْرَفِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نَاقَةٍ، فَقَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: نُتِجَتْ هَذِهِ النَّاقَةُ عِنْدِي، وَأَقَامَ بَيِّنَةً، فَقَضَى بِهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلَّذِي هِيَ فِيُ يَدَيْهِ..
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی ایک اونٹنی کا جھگڑا لے کر آئے کہ اس نے ان کے ہاں جنم دیا ہے اور گواہی پیش کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”جس کے قبضے میں تھی اس کے حق میں فیصلہ کر دیا“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدَّعْوَى وَالبَيِّنَاتِ/حدیث: 21224]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 21225
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي دَابَّةٍ، فَأَقَامَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا الْبَيِّنَةَ أَنَّهَا لَهُ، وَأَنَّهُ أَنْتَجَهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" هِيَ لِلَّذِي فِيُ يَدَيْهِ، النَّاتِجُ أَحَقُّ مِنَ الْعَارِفِ".
ایوب، محمد سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ایک جانور کا جھگڑا لے کر قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس آئے، ہر ایک کے پاس گواہی بھی تھی کہ اس نے ان کے ہاں جنم دیا ہے، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے بھی فیصلہ اس کے حق میں دیا جس کے قبضہ میں (وہ) تھا، (اور فرمایا:) جس کے ہاں جانور نے جنم لیا وہ (محض) پہچاننے والے سے زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدَّعْوَى وَالبَيِّنَاتِ/حدیث: 21225]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21226
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، أنبأ هُشَيْمٌ، عَنْ يُونُسَ، وَابْنِ عَوْنٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ ادَّعَيَا دَابَّةً، فَأَقَامَ أَحَدُهُمَا الْبَيِّنَةَ وَهِيَ فِي يَدِهِ أَنَّهُ نَتَجَهَا، وَأَقَامَ الْآخَرُ بَيِّنَةً أَنَّهَا دَابَّتُهُ عَرَفَهَا، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" النَّاتِجُ أَحَقُّ مِنَ الْعَارِفِ".
ابن سیرین رحمہ اللہ، قاضی شریح رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ دو آدمی ان کے پاس ایک چوپائے کا جھگڑا لے کر آئے۔ ان میں سے ایک، جس کے قبضے میں چوپایہ تھا، اس نے گواہ پیش کیے کہ اس چوپائے نے اس کے ہاں جنم لیا ہے، اور دوسرے نے گواہ پیش کیے کہ یہ اس کا چوپایہ ہے جسے وہ پہچانتا ہے، تو قاضی شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کے گھر چوپائے نے جنم لیا وہ (محض) پہچاننے والے سے زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الدَّعْوَى وَالبَيِّنَاتِ/حدیث: 21226]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح