السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4188. -- باب:: عتق العبيد لا يخرجون من الثلث.
-- باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21400
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: أَعْتَقَتِ امْرَأَةٌ، أَوْ رَجُلٌ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهَا، وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ ثُلُثَهُمْ.. ⦗٤٨٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ ذَلِكَ فِي مَرِضِ الْمُعْتِقِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ..
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرد یا عورت نے چھ غلام آزاد کر دیے، اس کا ان کے علاوہ کوئی مال بھی نہ تھا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان قرعہ اندازی کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا تیسرا حصہ آزاد کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس مرض میں آزاد کیے، جس میں وہ فوت ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21400]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اس مرض میں آزاد کیے، جس میں وہ فوت ہوا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21400]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21401
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ جَمِيعًا، فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِذَلِكَ الرَّقِيقِ فَقُسِّمُوا أَثْلَاثًا، فَأَسْهَمَ بَيْنَهُمْ عَلَى أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيُعْتَقُوا؟ فَخَرَجَ سَهْمُ الْمَيِّتِ عَلَى أَحَدِ الْأَثْلَاثِ فَعُتِقُوا، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.
ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ کے زمانہ میں ایک آدمی نے اپنے تمام غلام آزاد کر دیے، تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے تمام غلاموں کو حکم دیا، ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی۔ جس کا قرعہ نکلتا وہ آزاد کر دیا جاتا، ان میں سے ایک گروپ کا قرعہ نکلا تو اس کو آزاد کر دیا گیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ العِتْقِ/حدیث: 21401]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح