السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4216. -- باب:: ما جاء في تدبير الصبي ووصيته.
-- باب: نابالغ بچے کے (اپنے غلام کو) مدبر بنانے اور اس کی وصیت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21598
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَلْيُوصِ لَهَا"، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ.
عمرو بن سلیم زرقی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: یہاں غسان کا ایک قریب البلوغ لڑکا ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوا، اس کا وارث شام میں ہے، وہ مال دار ہے اور یہاں اس کی صرف ایک چچا کی بیٹی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر وہ اس کے لیے وصیت کر دے۔ چنانچہ اس نے اس کے لیے ایک مال کی وصیت کی، جس کو بئرِ جشم کہا جاتا ہے، عمرو بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ مال میں نے تیس ہزار میں فروخت کیا۔ اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے اس نے وصیت کی تھی، وہ عمرو بن سلیم کی والدہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21598]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه ابن مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21599
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" نَعَمْ فَلْيُوصِ"، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِمَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک غلام تھا، مدینہ میں اس کی موت کا وقت آگیا اور اس کے ورثاء شام میں تھے۔ یہ خبر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی۔ کہا گیا: فلاں مر رہا ہے، کیا وہ وصیت کر لے؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ وصیت کر لے۔ ابوبکر بن محمد کہتے ہیں کہ بچے کی عمر ۱۰ سال یا ۱۲ سال تھی۔ اس نے بئرِ جشم مال کی وصیت کر دی تو اس کے ورثاء نے اس کو ۳۰ ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُدَبَّرِ/حدیث: 21599]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح