السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4243. -- باب:: كتابة المكاتب وإعتاقه.
-- باب: مکاتب کے (کسی کو) مکاتب بنانے اور اسے آزاد کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21719
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قُلْتُ لِعَطَاءٍ: كَانَ لِلْمُكَاتَبِ عَبْدٌ فَكَاتَبَهُ ثُمَّ مَاتَ، لِمَنْ مِيرَاثُهُ؟ قَالَ:" كَانَ مَنْ قَبْلَكُمْ يَقُولُونَ: هُوَ لِلَّذِي كَاتَبَهُ يَسْتَعِينُ بِهِ فِي كِتَابَتِهِ".
ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے عطاء رحمہ اللہ سے کہا کہ ایک مکاتب کا غلام تھا، اس نے اس سے مکاتبت کی۔ پھر وہ فوت ہو گیا تو وراثت کس کو ملے گی؟ فرمایا: پہلے لوگ کہا کرتے تھے کہ وہ اسی کی ہے جس نے اس سے مکاتبت کی، وہ اس سے اپنی مکاتبت میں مدد لے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21719]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21720
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنِ ابْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي عِمْرَانَ، قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ، وَسَالِمًا، عَنِ الْمُكَاتَبِ يَقْضِي نِصْفَ كِتَابَتِهِ ثُمَّ يُكَاتِبُ الْمُكَاتَبُ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ يَسْعَيَانِ جَمِيعًا، فَيَقْضِي ⦗٥٦٤⦘ غُلَامُ الْمُكَاتَبِ كِتَابَتَهُ، ثُمَّ يَعْجَزُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا، أَيُرَدُّ عَبْدًا أَمْ يَجُوزُ عَتَاقَهُ بِمَا أَدَّى إِلَى سَيِّدِهِ؟ قَالَا:" إِنْ كَانَ سَيِّدُهُ الْأَوَّلُ مِنْهُمَا أَذِنَ لَهُ أَنْ يُكَاتِبَهُ فَلَا سَبِيلَ عَلَيْهِ، وَإِلَّا فَهُوَ بِمَنْزِلَتِهِ.
خالد بن ابی عمران رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے قاسم اور سالم رحمہما اللہ سے مکاتب کے بارے میں سوال کیا جو اپنی نصف کتابت ادا کر دیتا ہے، پھر وہ مکاتب اپنے ایک غلام سے مکاتبت کر لیتا ہے، پھر وہ دونوں کوشش کرتے ہیں تو مکاتب کا غلام اپنی کتابت ادا کر دیتا ہے، پھر ان میں سے پہلا عاجز آ جاتا ہے، کیا وہ (دوسرا) غلام بنا دیا جائے گا یا اس کی آزادی اس کے عوض درست ہوگی جو اس نے اپنے مالک کو ادا کر دیا؟ دونوں فرماتے ہیں کہ اگر ان میں سے پہلے کے مالک نے اس کو اجازت دی تھی کہ وہ اس سے کتابت کر لے تو اس پر کوئی مؤاخذہ نہیں، ورنہ وہ بھی اسی کے مرتبہ و مقام پر ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ المُكَاتَبِ/حدیث: 21720]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف