السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4252. -- باب:: ولد أم الولد من غير سيدها بعد الاستيلاد.
-- باب: اُمِ ولد کے اس بچے کا بیان جو استیلاد (آقا کی طرف سے اولاد ہونے) کے بعد اس کے آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ:" إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ سَيِّدِهَا فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا كَانَ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا عَبِيدًا مَا عَاشَ سَيِّدُهَا، فَإِنْ مَاتَ فَهُمْ أَحْرَارٌ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی اپنے مالک کی اولاد کو جنم دے اور وہ (لونڈی) بعد میں نکاح کر لے اور اس کی اولاد ہو تو اس کی اولاد اسی کے مرتبہ میں غلام ہوگی جب تک سید زندہ رہے۔ اگر وہ فوت ہو گیا تو وہ آزاد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ/حدیث: 21800]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21801
أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْإِسْفَرَايِينِيُّ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا يَزِيدُ هُوَ ابْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ:" وَلَدُ الْمُعْتَقَةِ عَنْ دُبُرٍ وَأُمِّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَةِ أُمِّهِمَا، إِذَا عَتَقَتْ فَهُمْ مُعْتَقُونَ، إِذَا مَاتَ السَّيِّدُ"..
اسماعیل، عامر رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ «مُدَبَّرَہ» لونڈی کی اولاد اور «اُمُّ الْوَلَدِ» کی اولاد ایک ہی مرتبہ میں ہیں، جب ان کی مائیں آزاد ہوں گی ان کی اولادیں بھی آزاد ہو جائیں گی، جب مالک فوت ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ/حدیث: 21801]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا حِبَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي هَاشِمٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ:" وَلَدُ الْمُدَبَّرَةِ وَأُمِّ الْوَلَدِ بِمَنْزِلَتِهِمَا".
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدبرہ اور ام الولد کی اولاد اپنی ماؤں کے مرتبہ میں ہیں۔
(ب) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی ام ولد کا نکاح غلام سے کر دیا، اس کی اولاد ہو گئی، فرماتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کے مرتبہ میں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ/حدیث: 21802]
(ب) عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی ام ولد کا نکاح غلام سے کر دیا، اس کی اولاد ہو گئی، فرماتے ہیں کہ وہ اپنی ماں کے مرتبہ میں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ/حدیث: 21802]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 21803
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَعْرُوفِ، أنبأ أَبُو سَعِيدٍ الرَّازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُسْلِمٌ، ثنا هِشَامٌ، ثنا قَتَادَةُ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي أُمِّ الْوَلَدِ تَعْتِقُ وَلَهَا أَوْلَادٌ قَالَ:" تَعْتِقُ هِيَ وَأَوْلَادُهَا".
حضرت حسن رحمہ اللہ ام ولد کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ آزاد ہے اور اس کی اولاد ہے، وہ اور اس کی اولاد دونوں ہی آزاد ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ عِتْقِ أُمَّهَاتِ الأَوْلَادِ/حدیث: 21803]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح