🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2. بَابٌ فِي فَضْلِ الْعِلْمِ .
علم کی فضیلت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 477
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عمرو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" قَلِيلُ الْعِلْمِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ فِقْهًا إِذَا عَبَدَ اللَّهَ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ جَهْلًا إِذَا أُعْجِبَ بِرَأْيِهِ، إِنَّمَا النَّاسُ رَجُلَانِ: مُؤْمِنٌ وَجَاهِلٌ، فَلَا تُؤْذُوا الْمُؤْمِنَ، وَلَا تُجَاوِرُوا الْجَاهِلَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ أَسِيدٍ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: لَا يُشْتَغَلُ بِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تھوڑا علم، زیادہ عبادت سے بہتر ہے، آدمی کے سمجھدار (یا عالم) ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کرے اور آدمی کے جاہل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ اپنی رائے کے حوالے سے خود پسندی کا شکار ہو، تم لوگ مؤمن کو اذیت نہ پہنچاؤ اور جاہل کے ساتھ نہ رہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن اسید ہے، امام ابوحاتم فرماتے ہیں: اس کے ساتھ مشغول نہیں ہوا جائے گا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 477]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 8698»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 478
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَضْلُ الْعِلْمِ خَيْرٌ مِنْ فَضْلِ الْعِبَادَةِ، وَخَيْرُ دِينِكُمُ الْوَرَعُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ حِبَّانَ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَجَمَاعَةٌ.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: علم کی فضیلت، عبادت کی فضیلت سے بہتر ہے، اور تمہارے دین (یعنی اعمال) میں سب سے بہتر چیز، پرہیز گاری ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عبدالقدوس ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، جب کہ یحییٰ بن معین اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 478]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 3960 اورده المؤلف فى كشف الاستار 139»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 479
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْضَلُ الْعِبَادَةِ الْفِقْهُ، وَأَفْضَلُ الدِّينِ الْوَرَعُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي لَيْلَى، ضَعَّفُوهُ لِسُوءِ حِفْظِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: سب سے زیادہ فضیلت والی عبادت (دینی احکام کی) سمجھ بوجھ (یعنی ان کا علم) حاصل کرنا ہے، اور سب سے زیادہ فضیلت والا دین (یعنی عمل) پرہیز گاری ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابولیلی ہے، جس کے حافظے کی وجہ سے علماء نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 479]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 9264 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 124/2»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 480
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَضْلُ الْعِلْمِ أَفْضَلُ مِنَ الْعِبَادَةِ، وَمِلَاكُ الدِّينِ الْوَرَعُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ: سَوَّارُ بْنُ مُصْعَبٍ، ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: علم کی فضیلت، عبادت سے زیادہ ہے، اور دین کا مجموعہ پرہیز گاری ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سوار بن مصعب ہے، جو انتہائی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 480]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 10089، 10197»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 481
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَسِيرُ الْفِقْهِ خَيْرٌ مِنْ كَثِيرِ الْعِبَادَةِ، وَخَيْرُ أَعْمَالِكُمْ أَيْسَرُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَارِجَةُ بْنُ مُصْعَبٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (دین کے احکام) کی تھوڑی سی سمجھ بوجھ (یعنی اُن کا علم حاصل کرنا) زیادہ عبادت سے بہتر ہے، اور تمہارے اعمال میں زیادہ بہتر وہ ہے، جو زیادہ آسان ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خارجہ بن مصعب ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 481]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 482
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا جُمِعَ شَيْءٌ إِلَى شَيْءٍ أَفْضَلُ مِنْ عِلْمٍ إِلَى حِلْمٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ مِنْ رِوَايَةِ حَفْصِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ حَسَنِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يَزِيدَ الْعَلَوِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ أَحَدًا مِنْهُمْ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب بھی کسی ایک چیز کو، دوسری کے ساتھ جمع کیا گیا ہو، تو ان میں کوئی بھی چیز، اس سے زیادہ فضیلت نہیں رکھتی کہ علم کو بردباری کے ساتھ جمع کر دیا گیا ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے، انہوں نے اسے حفص بن بشر کی حسن بن حسین بن یزید علوی کے حوالے سے، اُن کے والد سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کیا ہے، (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں نے کسی کو ان میں سے کسی ایک کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 482]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 4846 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 707»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 483
وَعَنْ عُمَرَ - يَعْنِي ابْنَ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
" مَا اكْتَسَبَ مُكْتَسِبٌ مِثْلَ فَضْلِ عِلْمٍ يَهْدِي صَاحِبَهُ إِلَى هُدًى، أَوْ يَرُدُّهُ عَنْ رَدًى، وَمَا اسْتَقَامَ دِينُهُ حَتَّى يَسْتَقِيمَ عَمَلُهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَقَالَ فِيهِ:" حَتَّى يَسْتَقِيمَ عَقْلُهُ" بَدَلَ:" عَمَلِهِ"، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: کسی حاصل کرنے والے نے، علم کی فضیلت جیسی کوئی چیز حاصل نہیں کی، علم اپنے ساتھی (یعنی صاحب علم شخص) کو ہدایت کی طرف لے جاتا ہے، یا اُسے خراب چیز سے ہٹا دیتا ہے، اور آدمی کا دین اس وقت تک ٹھیک نہیں ہوتا، جب تک اُس کا عمل ٹھیک نہیں ہوتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، تاہم انہوں نے اس میں عمل کی جگہ عقل کا لفظ نقل کیا ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے ا [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 483]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 4726 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 241/1»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں