🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

5. بَابٌ مِنَ الْعِلْمِ يَتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 507
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا: لَبَابٌ مِنَ الْعِلْمِ يَتَعَلَّمُهُ الرَّجُلُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَلْفِ رَكْعَةٍ تَطَوُّعًا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: علم کا ایک باب، جس کو آدمی سیکھ لے، وہ میرے نزدیک، ایک ہزار نفل رکعات (ادا کرنے) سے زیادہ محبوب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 507]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 508
- وَقَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا جَاءَ الْمَوْتُ لِطَالِبِ الْعِلْمِ وَهُوَ عَلَى هَذِهِ الْحَالَةِ مَاتَ وَهُوَ شَهِيدٌ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ هِلَالُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَنَفِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
یہ دونوں حضرات (یعنی سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی طالب علم کو موت آ جائے اور وہ اسی حالت میں (یعنی علم کے حصول کے دوران) مر جائے، تو وہ شہید شمار ہو گا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ہلال بن عبدالرحمن حنفی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 508]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 138»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 509
وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ طَالِبَ الْعِلْمِ تَبْسُطُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ أَجْنِحَتَهَا وَتَسْتَغْفِرُ لَهُ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: بے شک طالب علم کے لئے فرشتے اپنے پر بچھا رہتے ہیں اور اس کیلئے دعائے مغفرت کرتے ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے، اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 509]
تخریج الحدیث: «اورده المؤلف فى كشف الاستار 135»

الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 510
وَعَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبَحْرِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، وَهُوَ كَذَّابٌ أَيْضًا.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے، ہر چیز، یہاں تک کہ سمندر میں موجود مچھلیاں، بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالملک ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 510]
تخریج الحدیث: «أورده المؤلف فى كشف الاستار 133»

الحكم على الحديث: إسنادہ موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 511
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عُلَمَاءُ هَذِهِ الْأُمَّةِ رَجُلَانِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا، فَبَذَلَهُ لِلنَّاسِ، وَلَمْ يَأْخُذْ عَلَيْهِ طَمَعًا وَلَمْ يَشْتَرِ بِهِ ثَمَنًا، فَذَلِكَ تَسْتَغْفِرُ لَهُ حِيتَانُ الْبَحْرِ وَدَوَابُّ الْبَرِّ وَالطَّيْرُ فِي جَوِّ السَّمَاءِ، وَيَقْدَمُ عَلَى اللَّهِ سَيِّدًا شَرِيفًا حَتَّى يُرَافِقَ الْمُرْسَلِينَ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا، فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا، فَذَاكَ يُلْجَمُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِلِجَامٍ مِنْ نَارٍ، وَيُنَادِي مُنَادٍ: هَذَا الَّذِي آتَاهُ اللَّهُ عِلْمًا فَبَخِلَ بِهِ عَنْ عِبَادِ اللَّهِ، وَأَخَذَ عَلَيْهِ طَمَعًا، وَاشْتَرَى بِهِ ثَمَنًا، وَكَذَلِكَ حَتَّى يَفْرَغَ مِنَ الْحِسَابِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَبُو زُرْعَةَ وَأَبُو حَاتِمٍ وَابْنُ عَدِيٍّ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اس امت کے علماء دو افراد ہیں، (ایک) وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اُسے لوگوں پر خرچ کرتا ہو، وہ اُس حوالے سے کوئی لالچ نہ رکھتا ہو، اور اس کا کوئی معاوضہ نہ لیتا ہو، تو اس کے لیے سمندر کی مچھلیاں، خشکی کے جانور اور فضا میں موجود پرندے دعائے مغفرت کرتے ہیں، جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا، تو سردار اور معزز فرد ہونے کے طور پر حاضر ہو گا، یہاں تک کہ وہ مرسلین کے ساتھ ہو گا، اور (دوسرا) وہ شخص، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا ہو اور وہ اس علم کے حوالے سے، اللہ کے بندوں سے بخل سے کام لیتا ہو، وہ اس کے حوالے سے لالچ رکھتا ہو، اور اس کا معاوضہ وصول کرتا ہو، تو اسے قیامت کے دن آگ کی لگام ڈالی جائے گی، اور ایک منادی یہ پکار کر کہے گا: یہ وہ شخص ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے علم عطا کیا اور اس نے اس علم کے حوالے سے، اللہ کے بندوں کے ساتھ بخل سے کام لیا، اس نے اُس کے حوالے سے لالچ کیا اور اُس کا معاوضہ وصول کیا، یہ اعلان اُس وقت تک ہوتا رہے گا، جب تک حساب ختم نہیں ہو جاتا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ امام ابوزرعہ، امام ابوحاتم اور ابن عدی نے ضعیف قرار دیا ہے، جبکہ ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 511]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 7187»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 512
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مُعَلِّمُ الْخَيْرِ يَسْتَغْفِرُ لَهُ كُلُّ شَيْءٍ حَتَّى الْحِيتَانُ فِي الْبِحَارِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زُرَارَةَ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَقَالَ الْأَزْدِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، وَلَا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِ الْأَزْدِيِّ فِي مِثْلِهِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے، ہر چیز، یہاں تک کہ سمندروں میں موجود مچھلیاں بھی دعائے مغفرت کرتی ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عبداللہ بن زرارہ ہے، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے، ازدی کہتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے، لیکن اس طرح کی صورتحال میں ازدی کے قول کی طرف التفات نہیں کیا جائے گا، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 512]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6219»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 513
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ، حَتَّى النَّمْلَةَ فِي جُحْرِهَا، حَتَّى الْحُوتَ فِي الْبَحْرِ - يُصَلُّونَ عَلَى مُعَلِّمِ النَّاسِ الْخَيْرَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَثَّقَهُ الْبُخَارِيُّ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: بے شک اللہ تعالیٰ (رحمت نازل کرتا ہے) اور اُس کے فرشتے، یہاں تک کہ بل میں موجود چیونٹی اور سمندر میں موجود مچھلی بھی، لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دینے والے کے لیے رحمت کی دعا کرتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم ابوعبدالرحمن ہے، جسے امام بخاری رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام أحمد نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 513]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7912»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں