🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

48. بَابُ لَا تَضُرُّ الْجَهَالَةُ بِالصَّحَابَةِ لِأَنَّهُمْ عُدُولٌ .
صحابہ کرام (میں سے کسی صحابی) کے بارے میں عدم واقفیت نقصان نہیں پہنچاتی ہے کیونکہ صحابہ کرام عادل ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 690
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ: كُنَّا مَعَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا كُلُّ مَا نُحَدِّثُكُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْنَاهُ مِنْهُ، وَلَكِنْ لَمْ يَكُنْ يَكْذِبُ بَعْضُنَا بَعْضًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
حمید بیان کرتے ہیں: ہم لوگ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، اُنہوں نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! ہم لوگ (یعنی صحابہ کرام) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے، تم لوگوں کو جو کچھ بھی بیان کریں گے، وہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو گا، کیونکہ ہم میں سے کوئی ایک کسی دوسرے کے ساتھ بھی جھوٹ نہیں بولتا ہے (یا کسی اور کی طرف کوئی جھوٹی بات منسوب نہیں کرتا ہے، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کوئی جھوٹی بات کیسے منسوب کر سکتا ہے؟)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 690]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 691
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: مَا كُلُّ الْحَدِيثِ سَمِعْنَاهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -. كَانَ يُحَدِّثُنَا أَصْحَابُهُ عَنْهُ. كَانَتْ تَشْغَلُنَا عَنْهُ رَعِيَّةُ الْإِبِلِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہر حدیث ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی نہیں سنی ہوئی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں حدیث بیان کر دیا کرتے تھے، کیونکہ ہم اونٹوں کی دیکھ بھال کی وجہ سے مصروف رہتے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 691]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 283/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 223»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں