🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

103. بَابٌ فِي الْبِدَعِ وَالْأَهْوَاءِ .
بدعتوں اور نفسانی خواہشات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 891
عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّمَا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ، وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ; لِأَنَّ أَبَا الْحَكَمِ الْبُنَانِيَّ الرَّاوِيَ عَنْ أَبِي بَرْزَةَ بَيَّنَهُ الطَّبَرَانِيُّ فَقَالَ: عَنْ أَبِي الْحَكَمِ، هُوَ عَلِيُّ بْنُ الْحَكَمِ. وَقَدْ رَوَى لَهُ الْبُخَارِيُّ وَأَصْحَابُ السُّنَنِ.
سیدنا ابوبرزه رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: مجھے تم لوگوں کے حوالے سے بھٹکانے والی شہوتوں کا اندیشہ ہے، جن کا تعلق تمہارے پیٹ اور شرم گاہوں سے ہو گا، اور گمراہ کرنے والی نفسانی خواہشات (کا اندیشہ ہے)۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابوالحکم بنانی کا معاملہ مختلف ہے، جس نے سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، اُس کے بارے میں امام طبرانی نے یہ بیان کیا ہے: یہ ابوالحکم سے منقول ہے، اور وہ علی بن حکم ہے، امام بخاری رحمہ اللہ اور سنن کے مؤلفین نے اس کے حوالے سے روایات نقل کی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 891]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 420/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 198 اورده المؤلف فى كشف الاستار 131»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 892
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ قَالَ: بَعَثَ إِلَيَّ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ فَقَالَ: يَا أَبَا سُلَيْمَانَ، إِنَّا قَدْ جَمَعْنَا النَّاسَ عَلَى أَمْرَيْنِ، فَقَالَ: وَمَا هُمَا؟ قَالَ: رَفْعُ الْأَيْدِي عَلَى الْمَنَابِرِ يَوْمَ الْجُمْعَةِ، وَالْقَصَصُ بَعْدَ الصُّبْحِ وَالْعَصْرِ، فَقَالَ: [ أَمَا ] إِنَّهُمَا مِثْلُ بِدْعَتِكُمْ عِنْدِي، وَلَسْتُ بِمُجِيبِكُمْ إِلَى شَيْءٍ مِنْهُمَا. قَالَ: لِمَ؟ قَالَ: لِأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَا أَحْدَثَ قَوْمٌ بِدْعَةً إِلَّا رُفِعَ مِثْلَهَا مِنَ السُّنَّةِ، فَتَمَسُّكٌ بِسُنَّةٍ خَيْرٌ مِنْ إِحْدَاثِ بِدْعَةٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
حضرت غضیف بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: عبدالملک بن مروان نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا، اُس نے کہا: اے ابوسلیمان! ہم نے دو معاملوں کے حوالے سے لوگوں کو جمع کیا ہے، حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ دو معاملے کیا ہیں؟ عبدالملک بن مروان نے کہا: جمعہ کے دن منبر پر ہاتھ بلند کرنا، اور صبح و عصر کی نماز کے بعد درس دینا (یا وعظ کرنا)، تو حضرت غضیف بن حارث رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے نزدیک یہ دونوں چیزیں تمہاری بدعت کی مانند ہیں، اور میں تمہیں ان دونوں میں سے کسی کی اجازت نہیں دوں گا، عبدالملک بن مروان نے دریافت کیا: وہ کیوں؟ تو حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو بھی قوم بدعت ایجاد کرتی ہے، تو اس (بدعت) کی مانند کوئی سنت اٹھا لی جاتی ہے۔،، (پھر حضرت غضیف رضی اللہ عنہ نے فرمایا:) سنت کو مضبوطی سے تھام کے رکھنا، بدعت ایجاد کرنے سے بہتر ہے۔،،
یہ روایت امام احمد اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن عبداللہ بن ابومریم ہے، اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 892]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى مسنده 105/4290، اورده المؤلف فى زوائد المسند 197 اورده المؤلف فى كشف الاستار 131»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 893
وَعَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ الثُّمَالِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَا مِنْ أُمَّةٍ ابْتَدَعَتْ بَعْدَ نَبِيِّهَا فِي دِينِهَا بِدْعَةً إِلَّا أَضَاعَتْ مِثْلَهَا مِنَ السُّنَّةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا غضیف بن حارث ثمالی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب بھی کوئی اُمت اپنے نبی کے بعد اپنے دین میں کوئی بدعت ایجاد کرتی ہے، تو وہ (اُمت) اُس (بدعت) کی مانند کوئی سنت ضائع کر دیتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر بن ابومریم ہے اور وہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 893]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 894
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: مَا أَتَى عَلَى النَّاسِ عَامٌ إِلَّا أَحْدَثُوا فِيهِ بِدْعَةً وَأَمَاتُوا فِيهِ سُنَّةً، حَتَّى تَحْيَا الْبِدَعُ وَتَمُوتَ السُّنَنُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: لوگوں پر جو بھی نیا سال آتا ہے، یہ اس میں کوئی بدعت ایجاد کر لیتے ہیں، اور کسی سنت کو ختم کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ بدعتیں رہ جائیں گی اور سنتیں ختم ہو جائیں گی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 894]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن، کیونکہ اس کے تمام راوی ثقہ اور معتبر ہیں۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 895
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا تَحْتَ ظِلِّ السَّمَاءِ مِنْ إِلَهٍ يُعْبَدُ مِنْ دُونِ اللَّهِ - أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ هَوًى مُتَّبَعٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ دِينَارٍ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: آسمان کے سائے تلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ جتنے بھی معبودوں کی عبادت کی جاتی ہے، اُن میں سے کوئی بھی (باطل معبود) اللہ تعالیٰ کے نزدیک نفسانی خواہش کی پیروی سے زیادہ بڑا (یعنی زیادہ ناپسندیدہ) نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسن بن دینار ہے اور وہ متروک الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 895]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 7502»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً، کیونکہ اس کی سند میں حسن بن دینار ہے جو کہ متروک الحدیث ہے۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 896
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ:" يَا عَائِشَةُ، إِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دَيْنَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا - هُمْ أَصْحَابُ الْبِدَعِ وَأَصْحَابُ الْأَهْوَاءِ، لَيْسَ لَهُمْ تَوْبَةٌ، أَنَا مِنْهُمْ بَرِيءٌ، وَهُمْ مِنِّي بُرَآءُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ وَمُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: اے عائشہ! بیشک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں فرقہ بندی اختیار کی اور وہ مختلف گروہوں میں تقسیم ہو گئے، وہ بدعت کی پیروی کرنے والے اور نفسانی خواہشات کے پیروکار لوگ تھے، اُن کے لیے توبہ کی گنجائش نہیں ہے، میں ان سے لاتعلق ہوں اور وہ مجھ سے لاتعلق ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں دو راوی، بقیہ اور مجالد بن سعید ہیں اور یہ دونوں ضعیف ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 896]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الصغير 203/1»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 897
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ مَشَى إِلَى صَاحِبِ بِدْعَةٍ لِيُوَقِّرَهُ فَقَدْ أَعَانَ عَلَى هَدْمِ الْإِسْلَامِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جو شخص کسی بدعتی کی طرف چل کر جائے، تاکہ اُس کی تعظیم کرے، تو اُس نے اسلام کو منہدم کرنے میں مدد دی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 897]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 96/20»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 898
وَعَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُمَيْرٍ الثُّمَالِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْأَمْرُ الْمُفْظِعُ، وَالْحِمْلُ الْمُضْلِعُ، وَالشَّرُّ الَّذِي لَا يَنْقَطِعُ - إِظْهَارُ الْبِدَعِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا حکم بن عمیر ثمالی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ایسا معاملہ جو پریشان کر دے، ایسا بوجھ جو کمر توڑ دے اور ایسی خرابی جو کبھی منقطع نہ ہو، وہ بدعتوں کا اظہار ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِلْمِ/حدیث: 898]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3194»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں