🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

4. بَابٌ فِيهِ وَفِي أَدَبِ الْخَلَاءِ .
اس بارے میں اور قضائے حاجت کے آداب کے بارے میں بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا جَاءَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَدَّثَ قَوْمَهُ وَعَلَّمَهُمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ يَوْمًا وَهُوَ كَأَنَّهُ يَلْعَبُ: مَا بَقِيَ لِسُرَاقَةَ إِلَّا أَنْ يُعَلِّمَكُمْ كَيْفَ التَّغَوُّطُ. قَالَ سُرَاقَةُ: إِذَا ذَهَبْتُمْ إِلَى الْغَائِطِ فَاتَّقُوا الْمَجَالِسَ عَلَى الظِّلِّ وَالطَّرَائِقِ، خُذُوا النَّبَلَ، وَاسْتَنْشِبُوا عَلَى سُوقِكُمْ، وَاسْتَجْمِرُوا، وَأَوْتِرُوا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (اپنے علاقے میں واپس) تشریف لائے، تو انہوں نے اپنی قوم کو باتیں بتائیں، اور انہیں (شرعی احکام کی) تعلیم دی، ایک دن ایک شخص نے اُن کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہا: سراقہ کا اب بس یہی کام رہ گیا ہے کہ وہ تمہیں یہ تعلیم دے کہ پاخانہ کیسے کرنا ہے؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو سائے، یا راستے میں بیٹھنے سے بچو، پھر استعمال کرو اور طاق تعداد میں استعمال کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1004]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ. قَالَ: إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا - وَأَحْسَبُهُ قَالَ: - وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
علقمہ بیان کرتے ہیں: مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کے آقا کے بارے میں، میں یہ گمان کرتا ہوں کہ انہوں نے تمہیں ہر چیز کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے، کہ قضائے حاجت کے لیے تم نے کیسے جانا ہے؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر تو تم مذاق اُڑا رہے ہو (تو میں تمہیں بتاتا ہوں) انہوں نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ ہم نے اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں کرنا ہے، راوی بیان کرتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے یہ بھی کہا: تھا اور ہم نے اپنے دائیں ہاتھ سے استنجاء نہیں کرنا ہے اور ہم نے مینگنی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے، اور ہم نے ہڈی کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے، اور ہم نے تین سے کم پتھروں کے ذریعے استنجاء نہیں کرنا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1005]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں