مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ كَيْفَ الْجُلُوسُ لِلْحَاجَةِ .
قضائے حاجت کے لیے کیسے بیٹھا جائے؟
حدیث نمبر: 1020
عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَذَا وَكَذَا، فَقَالَ رَجُلٌ كَالْمُسْتَهْزِئِ: أَمَا عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَخْرَءُونَ؟ قَالَ: بَلَى، وَالَّذِي بَعَثَهُ بِالْحَقِّ، لَقَدْ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَكَّأَ عَلَى الْيُسْرَى، وَأَنْ نَنْصِبَ الْيُمْنَى.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
بنو مدلج سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے (اپنی قوم میں) واپس آئے، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان باتوں کی تعلیم دی ہے، تو ایک شخص نے مذاق اڑانے کے طور پر یہ کہا: کیا انہوں نے تمہیں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ تم لوگوں نے قضائے حاجت کیسے کرنی ہے؟ تو سیدنا سراقہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: جی ہاں! اُس ذات کی قسم! جس نے انہیں حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے، انہوں نے ہمیں یہ حکم دیا ہے (کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے) ہم بائیں پاؤں پر وزن ڈالیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1020]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند میں ایک شخص ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1020]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف