مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ مَا نُهِيَ أَنْ يُسْتَنْجَى بِهِ .
کس چیز سے استنجاء کرنے کی ممانعت ہے؟
حدیث نمبر: 1037
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ جَزْءٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدٌ بِعَظْمٍ أَوْ رَوْثَةٍ أَوْ حُمَمَةٍ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْبَزَّارُ وَهَذَا لَفْظُهُ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن حارث بن جزء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ کوئی شخص ہڈی، یا مینگنی یا کوئلے کے ذریعے استنجاء کرے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1037]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے، روایت کے یہ الفاظ اُن کے نقل کردہ ہیں، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: «البحر الزخار مسند البزار ما اسند عبد الله بن الحارث بن جزء الزبيدى عن النبى 3194»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1038
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ:" أَيُّكُمْ يَتْبَعُنِي إِلَى وَفْدِ الْجِنِّ اللَّيْلَةَ"، فَأَسْكَتَ الْقَوْمُ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ مِنْهُمْ أَحَدٌ. قَالَ ذَلِكَ ثَلَاثًا، فَمَرَّ بِي يَمْشِي، فَأَخَذَ بِيَدِي، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ حَتَّى خَنَسَتْ عَنَّا جِبَالُ الْمَدِينَةِ كُلُّهَا، وَأَفْضَيْنَا إِلَى أَرْضِ بِرَازٍ، فَإِذَا رِجَالٌ طِوَالٌ كَأَنَّهُمُ الرِّمَاحُ، مُسْتَذْفِرِي ثِيَابَهُمْ مِنْ بَيْنِ أَرْجُلِهِمْ، فَلَمَّا رَأَيْتُهُمْ غَشِيَتْنِي رِعْدَةٌ شَدِيدَةٌ حَتَّى مَا تُمْسِكُنِي رِجْلَايَ مِنَ الْفَرَقِ، فَلَمَّا دَنَوْنَا مِنْهُمْ خَطَّ لِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِإِبْهَامِ رِجْلِهِ فِي الْأَرْضِ خَطًّا، فَقَالَ لِيَ:" اقْعُدْ فِي وَسَطِهِ"، فَلَمَّا جَلَسْتُ ذَهَبَ عَنِّي كُلُّ شَيْءٍ كُنْتُ أَجِدُهُ مِنْ رِيبَةٍ، وَمَضَى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ، فَتَلَا قُرْآنًا رَفِيعًا حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، ثُمَّ أَقْبَلَ حَتَّى مَرَّ بِي، فَقَالَ لِيَ:" الْحَقْ"، فَجَعَلْتُ أَمْشِي مَعَهُ، فَمَضَيْنَا غَيْرَ بَعِيدٍ، فَقَالَ لِيَ:" الْتَفِتْ فَانْظُرْ، هَلْ تَرَى حَيْثُ كَانَ أُولَئِكَ مِنْ أَحَدٍ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَى سَوَادًا كَثِيرًا، فَخَفَّضَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ إِلَى الْأَرْضِ، فَنَظَّمَ عَظْمًا بِرَوْثَةٍ، ثُمَّ رَمَى بِهِ إِلَيْهِمْ، ثُمَّ قَالَ:" رُشْدُ أُولَئِكَ مِنِّي، وَفْدُ قَوْمٍ هُمْ وَفْدُ نَصِيبِينَ، سَأَلُونِيَ الزَّادَ فَجَعَلْتُ لَهُمْ كُلَّ عَظْمٍ وَرَوْثَةٍ". قَالَ الزُّبَيْرُ: فَلَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يَسْتَنْجِيَ بِعَظْمٍ وَلَا رَوْثَةٍ أَبَدًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ، لَيْسَ فِيهِ غَيْرُ بَقِيَّةَ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالتَّحْدِيثِ.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی مسجد میں، ہمیں صبح کی نماز پڑھائی، جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ نے دریافت کیا: آج رات کون میرے ساتھ جنات کے وفد سے ملاقات کے لیے جائے گا؟ تو حاضرین خاموش رہے، ان میں سے کسی نے بھی کوئی بات نہیں کی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی، پھر آپ میرے پاس سے گزرے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، میں آپ کے ساتھ چلنے لگا، یہاں تک کہ مدینہ منورہ کے تمام پہاڑ ہم سے اوجھل ہو گئے اور ہم کھلی جگہ پر آ گئے، وہاں نیزوں کی طرح کے طویل القامت افراد موجود تھے جنہوں نے اپنے کپڑے دونوں ٹانگوں کے درمیان کیے ہوئے تھے، جب میں نے انہیں دیکھا تو مجھ پر شدید کپکپی طاری ہو گئی، یہاں تک کہ خوف کی شدت کی وجہ سے میری ٹانگیں کانپنے لگیں، جب ہم اُن لوگوں کے قریب پہنچے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے انگھوٹھے کے ذریعے زمین پر میرے لیے لکیر لگا دی، آپ نے مجھ سے فرمایا: تم اس کے درمیان میں بیٹھ جاؤ! جب میں بیٹھ گیا، تم مجھے جو بھی پریشانی لاحق تھی، وہ سب ختم ہو گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور (ان) لوگوں کے درمیان تشریف لے گئے، صبح صادق ہونے تک آپ بلند آواز میں قرآن کی تلاوت کرتے رہے، پھر آپ واپس تشریف لائے، جب آپ میرے پاس پہنچے، تو آپ نے فرمایا: میرے ساتھ آ جاؤ! میں آپ کے ساتھ چلنے لگا، ابھی ہم زیادہ دور نہیں گئے تھے، کہ آپ نے ارشاد فرمایا: مڑ کر دیکھو! جہاں وہ لوگ موجود تھے، وہاں تمہیں کچھ نظر آ رہا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! وہاں بہت سے افراد محسوس ہو رہے ہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر زمین کی طرف جھکایا، پھر آپ نے ایک ہڈی کو مینگنی کے ساتھ لگایا اور اسے ان لوگوں کی طرف پھینک دیا، پھر آپ نے ارشاد فرمایا: یہ میری طرف سے اُن لوگوں کی رہنمائی ہے، یہ ایک قوم کا وفد تھا یہ ”نصیبین“ کا وفد تھا، انہوں نے مجھ سے زاد راہ مانگا، تو میں نے ہر ہڈی اور مینگنی کو اُن کے لیے (زاد راہ کے طور پر) مقرر کر دیا۔ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اب ہمیشہ کے لیے، کسی کے لیے بھی ہڈی یا مینگنی کے ذریعے استنجاء کرنا حلال نہیں ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے، بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی (ضعف نہیں ہے) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1038]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند حسن ہے، بقیہ کے علاوہ اس میں اور کوئی (ضعف نہیں ہے) اور اس نے بھی تحدیث کی صراحت کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1038]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1039
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: اسْتَتْبَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَيْلَةً فَقَالَ:" إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ - خَمْسَةَ عَشَرَ، بَنُو إِخْوَةٍ، وَبَنُو عَمٍّ، - يَأْتُونِيَ اللَّيْلَةَ فَأَقْرَأُ عَلَيْهِمُ الْقُرْآنَ"، فَانْطَلَقْتُ مَعَهُ إِلَى الْمَكَانِ الَّذِي أَرَادَ، فَجَعَلَ لِي خَطًّا ثُمَّ أَجْلَسَنِي، وَقَالَ: لَا تَخْرُجَنَّ مِنْ هَذَا. فَبِتُّ فِيهِ حَتَّى أَتَانِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَ السَّحَرِ وَفِي يَدِهِ عَظْمٌ حَائِلٌ وَرَوْثَةٌ وَحُمَمَةٌ، فَقَالَ:" إِذَا أَتَيْتَ الْخَلَاءَ فَلَا تَسْتَنْجِ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا". قَالَ: فَلَمَّا أَصْبَحْتُ قُلْتُ: لَأَعْلَمَنَّ حَيْثُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَهَبْتُ، فَرَأَيْتُ مَوْضِعَ سَبْعِينَ بَعِيرًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَلِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، ضَعَّفَهُ الْأَئِمَّةُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَعَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
وَلِعَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ طَوِيلٌ يَأْتِي فِي عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ رَوَاهُ أَحْمَدُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے پیچھے آنے کے لیے کہا:، آپ نے ارشاد فرمایا پندرہ جنات کا گروہ، جو ایک دوسرے کے چچازاد اور بھتیجے لگتے ہیں، وہ آج رات میرے پاس آئیں گے، اور میں ان کے سامنے قرآن پڑھوں گا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس جگہ کی طرف گیا، جہاں آپ جانا چاہتے تھے، آپ نے میرے لئے ایک لکیر کھینچی اور مجھے بیٹھنے کے لیے کہا:، آپ نے ارشاد فرمایا: تم اس سے باہر نہیں جانا، میں رات بھر وہیں موجود رہا، یہاں تک کہ سحری کے قریب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، آپ کے دست مبارک میں ہڈی تھی مینگنی تھی اور کوئلہ تھا، آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم قضائے حاجت کے لیے جاؤ، تو ان (تین چیزوں) میں سے کسی کے ذریعے استنجاء نہ کرنا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اگلے دن صبح میں نے سوچا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں تشریف لے گئے تھے، میں اس جگہ کا جائزہ لوں گا میں وہاں گیا، تو میں نے ستر اونٹوں کی جگہ دیکھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے، ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، یحیی بن معین اور عبدالملک بن شعیب بن لیث نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1039]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے، ائمہ یعنی امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے، یحیی بن معین اور عبدالملک بن شعیب بن لیث نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1039]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح