مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَطَاهِرِ .
طہارت کے برتن (شاید لوٹا مراد ہے) کے ذریعہ وضو کرنا
حدیث نمبر: 1071
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْوُضُوءُ مِنْ جَرٍّ جَدِيدٍ مُخَمَّرٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مِنَ الْمَطَاهِرِ؟ فَقَالَ:" لَا، بَلْ مِنَ الْمَطَاهِرِ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ". قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ إِلَى الْمَطَاهِرِ، فَيُؤْتَى بِالْمَاءِ فَيَشْرَبُهُ، يَرْجُو بَرَكَةَ أَيْدِي الْمُسْلِمِينَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ثِقَةٌ، يُنْسَبُ إِلَى الْإِرْجَاءِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ثِقَةٌ، يُنْسَبُ إِلَى الْإِرْجَاءِ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! ڈھانپے ہوئے نئے مٹکے کے ذریعے وضو کرنا آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے، یا طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی نہیں! بلکہ طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے (وضو کرنا، میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے) بے شک اللہ تعالیٰ کا دین، درست اور آسان ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت کا برتن منگوایا کرتے تھے، اس میں پانی لایا جاتا تھا، تو آپ اس پانی کو پیتے تھے آپ مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید رکھتے (ہوئے ایسا کرتے) تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، عبدالعزیز بن ابورواد نامی راوی ثقہ ہے اس کی نسبت ”ارجاء“ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1071]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے، عبدالعزیز بن ابورواد نامی راوی ثقہ ہے اس کی نسبت ”ارجاء“ کی طرف کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1071]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن