🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

56. بَابُ فِيمَنْ مَسَّ فَرْجَهُ .
اس شخص کا بیان جو اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے (یعنی کیا اُس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں؟)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1258
عَنْ سَيْفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْحِمْيَرَيِّ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَرِجَالٌ مَعِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسَأَلْنَاهَا عَنِ الرَّجُلِ يَمْسَحُ فَرْجَهُ، فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَنْفِي".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى مِنْ رِوَايَةِ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْيَمَامَةِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ دَفَّاعٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَيْفٍ، وَهَؤُلَاءِ مَجْهُولُونَ، وَهُوَ أَقَلُّ مَا يُقَالُ فِيهِمْ.
سیف بن عبداللہ حمیری بیان کرتے ہیں: میں، کچھ افراد کے ساتھ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، ہم نے اُن سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنی شرمگاہ پر ہاتھ لگا دیتا ہے، تو انہوں نے فرمایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اُسے (یعنی شرمگاہ کو) چھو لیا ہے، یا اپنی ناک کو (چھو لیا ہے)۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے، اہل یمامہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے حسین بن دفاع کے حوالے سے، اُن کے والد کے حوالے سے، سیف سے نقل کی ہے، اور یہ سب لوگ مجہول ہیں، ان کے بارے میں، کم از کم یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1258]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1259
وَعَنْ عِصْمَةَ بْنِ مَالِكٍ الْخَطْمِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: احْتَكَّ بَعْضُ جَسَدِي، فَأَدْخَلْتُ يَدِي أَحْتَكُّ، فَأَصَابَتْ يَدِي ذَكَرِي. قَالَ:" وَأَنَا يُصِيبُنِي ذَلِكَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْفَضْلُ بْنُ الْمُخْتَارِ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ، ضَعِيفٌ جِدًّا.
سیدنا عصمہ بن مالک خطمی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: میں اپنے جسم کے کسی حصے پر خارش کر رہا ہوتا ہوں، اور خارش کرتے ہوئے، میرا ہاتھ میری شرمگاہ پر لگ جاتا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے ساتھ بھی کبھی ایسا ہو جاتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی فضل بن مختار ہے، وہ منکر الحدیث ہے اور انتہائی ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1259]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1260
وَعَنْ أَرْقَمَ بْنِ شُرَحْبِيلٍ قَالَ: حَكَّيْتُ جَسَدِي، وَأَنَا فِي الصَّلَاةِ، فَأَفْضَيْتُ إِلَى ذَكَرِي، فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ لِي:" اقْطَعْهُ - وَهُوَ يَضْحَكُ - أَيْنَ تَعْزِلُهُ مِنْكَ؟ إِنَّمَا هُوَ بَضْعَةٌ مِنْكَ". رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
ارقم بن شرحبیل بیان کرتے ہیں: میں نماز کے دوران اپنے جسم پر خارش کر رہا تھا، میرا ہاتھ میری شرمگاہ پر لگ گیا، میں نے اس بات کا ذکر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا، تو انہوں نے ہنستے ہوئے فرمایا: تم اسے کاٹ دو! تم اُسے الگ کیسے کر سکتے ہو؟ وہ تمہارے جسم کا ایک حصہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1260]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1261
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ قَالَ: سُئِلَ ابْنَ مَسْعُودٍ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ مَسِّ الذَّكَرِ، فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا كَطَرَفِ أَنْفِكَ.
وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
عبدالرحمن بن علقمہ بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے شرمگاہ کو چھونے کے بارے میں دریافت کیا گیا: میں یہ بات سن رہا تھا، اُنہوں نے فرمایا: وہ تمہاری ناک کے کنارے کی طرح ہے۔ اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1261]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1262
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ: مَا أُبَالِي إِيَّاهُ مَسِسْتُ أَوْ أَرْنَبَتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَسَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَكَذَلِكَ قَتَادَةَ، فَإِنَّهُ رَوَاهُ عَنْهُ أَيْضًا.
سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا، کہ میں نے اس کو چھو لیا ہے یا ناک کو چھو لیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، سعید بن جبیر نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے، قتادہ کا حال بھی اسی طرح ہے، انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے
یہ روایت نقل کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1262]

الحكم على الحديث: إسنادہ منقطع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1263
وَعَنِ الْحَسَنِ أَنَّ خَمْسَةً مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَابْنَ مَسْعُودٍ، وَحُذَيْفَةَ، وَعِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ، وَرَجُلًا آخَرَ - قَالَ بَعْضُهُمْ: مَا أُبَالِي مَسِسْتُ ذَكَرِي أَوْ أَرْنَبَتِي، وَقَالَ الْآخَرُ: فَخِذِي، وَقَالَ الْآخَرُ: رُكْبَتِي.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ الْحَسَنَ مُدَلِّسٌ، وَلَمْ يُصَرِّحْ بِالسَّمَاعِ.
حسن بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے پانچ افراد، یعنی سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ، سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ اور ایک اور صاحب یہ فرماتے ہیں، ان میں سے کسی نے یہ کہا: ہے: میں اس بات کی پرواہ نہیں کرتا کہ میں نے اپنی شرمگاہ کو چھو لیا ہے، یا اپنے ناک کو چھوا ہے، کسی نے یہ کہا: ہے: میں نے اپنے زانوں کو چھوا ہے، کسی نے یہ کہا: ہے: میں نے اپنے گھٹنے کو چھوا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال ثقہ ہیں اور صحیح کے رجال میں سے ہیں، البتہ حسن نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے، اور اُس نے سماع کی صراحت نہیں کی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1263]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1264
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ، وَقَدْ قَالَ: حَدَّثَنِي.
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لیتا ہے اُسے وضو کرنا چاہیے۔
یہ روایت امام أحمد، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، البتہ ابن اسحاق نامی راوی تدلیس کرنے والا ہے، تاہم یہاں اس نے یہ کہا: ہے: اُس نے مجھے حدیث بیان کی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1264]
تخریج الحدیث: «كما يابس بدابته صحيح ابن حبان كتاب الطهارة باب نواقض الوضوء ذكر خبر ثان يصرح بان عروة بن الزبير سمع هذا الخبر 1120 المستدرك على الصحيحين للحاكم كتاب الطهارة 429 سنن الدارمي كتاب الطهارة باب الوضوء من مس الذكر 759 مصنف ابن ابي شيبة كتاب الطهارات من كان يرى من مس الذكر وضوء 1 حديث 1705 البحر الزخار مسند البزار ما اسند زيد بن خالد الجهني، 3175 مسند ابي يعلى الموصلي حديث ام حبيبة بنت أبى سفيان ام المومنين، 6984 المعجم الاوسط للطبراني باب الباء من اسمه بكر 3152»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1265
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" مَنْ أَفْضَى بِيَدِهِ إِلَى ذَكَرِهِ لَيْسَ دُونَهُ سَتْرٌ ; فَقَدْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْوُضُوءُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ النَّوْفَلِيُّ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ أَكْثَرُ النَّاسِ، وَوَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جو شخص اپنا ہاتھ اپنی شرم گاہ کی طرف لے جائے، اور شرمگاہ پر کوئی پردہ نہ ہو تو اس شخص پر وضو لازم ہو جاتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے، امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں، اور امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عبدالملک نوفلی ہے، جسے زیادہ تر لوگوں نے ضعیف قرار دیا ہے، ایک روایت کے مطابق یحییٰ بن معین نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1265]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1266
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ مَسَّ فَرْجَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ، وَأَيُّمَا امْرَأَةٍ مَسَّتْ فَرْجَهَا فَلْتَتَوَضَّأْ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَقَدْ عَنْعَنَهُ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنی شرمگاہ کو چھو لے، اُسے وضو کرنا چاہیے، جو عورت اپنی شرمگاہ کو چھو لے، اُسے وضو کرنا چاہیے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی بقیہ بن ولید ہے، جس نے عنعنہ کے ساتھ روایت نقل کی ہے اور وہ تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1266]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1267
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنْ بُسْرَةَ بِنْتَ صَفْوَانَ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: - عَنِ الْمَرْأَةِ تُدْخِلُ يَدَهَا فِي فَرْجِهَا؟ فَقَالَ:" عَلَيْهَا الْوُضُوءُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ، وَالْأَكْثَرُونَ عَلَى تَضْعِيفِهِ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدہ بسرہ بنت صفوان رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی خاتون کے بارے میں دریافت کیا: جو اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ میں داخل کر لیتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس عورت پر وضو لازم ہو گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن داؤد شاذ کونی ہے، اکثر حضرات نے اُسے ضعیف قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1267]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں