مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
58. بَابٌ فِيمَنْ مَسَّ كَافِرًا .
جو شخص کسی کافر کو چھو لے
حدیث نمبر: 1274
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَقْبَلَ جِبْرِيلَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَاوَلَهُ يَدَهُ، فَأَبَى أَنْ يَتَنَاوَلَهَا، فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، ثُمَّ نَاوَلَهُ يَدَهُ فَتَنَاوَلَهَا، فَقَالَ:" يَا جِبْرِيلُ، مَا مَنَعَكَ أَنْ تَأْخُذَ بِيَدِي؟" قَالَ: إِنَّكَ أَخَذْتَ بِيَدِ يَهُودِيٍّ، فَكَرِهْتُ أَنْ تَمَسَّ يَدِي يَدًا مَسَّهَا كَافِرٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ رِيَاحٍ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سیدنا جبرائیل علیہ السلام آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک ان کی طرف بڑھایا، لیکن انہوں نے اپنا ہاتھ آگے نہیں کیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگوا کر وضو کیا، پھر آپ نے اپنا ہاتھ ان کی طرف بڑھایا، تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ لیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: اے جبرائیل! پہلے تم نے میرا ہاتھ کیوں نہیں پکڑا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: (کچھ دیر پہلے) آپ نے ایک یہودی کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا، تو مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں ایک ایسے ہاتھ کو چھو لوں، جسے کسی کافر نے مس کیا ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ریاح ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1274]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ریاح ہے، جس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1274]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف