🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

60. بَابٌ فِيمَنْ سَالَ مِنْهُ دَمٌ .
اُس شخص کا بیان جس کا خون بہہ جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1276
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" إِذَا رَعَفَ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَنْصَرِفْ فَلْيَغْسِلْ عَنْهُ الدَّمَ، ثُمَّ لِيُعِدْ وُضُوءَهُ وَلْيَسْتَقْبِلْ صَلَاتَهُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، ضَعَّفَهُ النَّاسُ، وَقَالَ الدَّارَقُطْنِيُّ: لَا بَأْسَ بِهِ. وَلَكِنْ رَوَاهُ عَنِ ابْنِ أَرْقَمَ عَنْ عَطَاءٍ، وَلَا نَدْرِي مَنِ ابْنُ أَرْقَمَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب کسی شخص کی نماز کے دوران نکسیر پھوٹ جائے، تو اُسے نماز چھوڑ کر جا کر خون دھونا چاہیے، دوبارہ وضو کرنا چاہیے اور نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مسلمہ ہے، جسے لوگوں نے ”ضعیف“ قرار دیا ہے امام دارقطنی رحمہ اللہ کہتے ہیں: اس میں کوئی حرج نہیں ہے، تاہم اس نے یہ روایت ابن ارقم کے حوالے سے عطاء سے نقل کی ہے، اور ہمیں یہ معلوم نہیں ہے کہ ابن ارقم کون ہے؟ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1276]
تخریج الحدیث: «سنن الدارقطني كتاب الطهارة باب فى الوضوء من الخارج من البدن 491 المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عطاء 11169»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1277
وَعَنْ سَلْمَانَ قَالَ: سَالَ مِنْ أَنْفِي دَمٌ، فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ:" أَحْدِثْ لِمَا حَدَثَ وُضُوءًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْقُرَشِيُّ الْوَاسِطِيُّ، وَهُوَ كَذَّابٌ.
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ناک سے خون بہنے لگا، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہیں ایسا حدث لاحق ہوا ہے، جو وضو کو ختم کر دیتا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن خالد قرشی واسطی ہے اور وہ کذاب ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1277]

الحكم على الحديث: موضوع
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں