🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

65. بَابُ الْوُضُوءِ مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ .
آگ پر پکی ہوئی چیز (کھا لینے) کے بعد وضو کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1303
وَلَهُ عِنْدَ الطَّبَرَانِيِّ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ".
وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ، إِلَّا أَنَّ عَمْرَو بْنَ دِينَارٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ، وَسَمَّاهُ فِي الْحَدِيثِ قَبْلَهُ، وَهُوَ يَحْيَى بْنُ جَعْدَةَ، وَابْنُ عَبْدِ الْقَارِئِ هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْقَارِئِ نِسْبَةً إِلَى جَدِّهِ.
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودِ بْنِ جُبَيْرَةَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرَةَ بْنِ مَحْمُودٍ.
اُن کے حوالے سے امام طبرانی نے یہ روایت نقل کی ہے: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”آگ پر پکی ہوئی چیز کھا لینے کے بعد وضو کر لو!“۔
اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، البتہ عمرو بن دینار نے یہ بات بیان کی ہے: مجھے اُس شخص نے یہ روایت بیان کی ہے، جس نے عبداللہ بن عبدقاری کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، اس سے پہلے والی حدیث میں اُنہوں نے اس طرح نام بیان کیا تھا، اور وہ یحیی بن جعدہ ہے، جبکہ ابن عبدقاری سے مراد، عبداللہ بن عمرو بن عبدقاری ہے، جس کی نسبت اس کے دادا کی طرف کی گئی ہے،
یہ روایت زید بن جبیرہ بن محمود بن جبیرہ، جن کا تعلق بنو عبدالاشہل سے ہے، یہ ان کے حوالے سے، اُن کے والد جبیرہ بن محمود سے منقول ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1303]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1304
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ سَلَامَةَ بْنِ وَقَشٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُمَا دَخَلَا وَلِيمَةً وَسَلَمَةُ عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلُوا ثُمَّ خَرَجُوا، فَتَوَضَّأَ سَلَمَةُ، فَقَالَ لَهُ جُبَيْرَةُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَخَرَجْنَا مِنْ دَعْوَةٍ دَعَوْنَا لَهَا وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى وُضُوءٍ، فَأَكَلَ ثُمَّ تَوَضَّأَ، فَقُلْتُ لَهُ: أَلَمْ تَكُنْ عَلَى وُضُوءٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنَّ الْأَمْرَ يَحْدُثُ، وَهَذَا مِمَّا (قَدْ) حَدَثَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ كَاتِبُ اللَّيْثِ، وَثَّقَهُ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ، وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَجَمَاعَةٌ، وَاتُّهِمَ بِالْكَذِبِ.
سیدنا سلمہ بن سلامہ بن وقش رضی اللہ عنہ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں، اُن کے بارے میں یہ بات منقول ہے: دونوں راوی بیان کرتے ہیں: وہ دونوں ولیمہ کی محفل میں داخل ہوئے، تو سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ وضو کر رہے تھے، لوگوں نے کھانا کھایا اور پھر چلے گئے، سیدنا سلمہ رضی اللہ عنہ دوبارہ وضو کرنے لگے، تو جبیرہ نے اُن سے کہا: کیا آپ باوضو نہیں تھے؟ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں! (یعنی میں باوضو تھا) لیکن میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ ہم ایک دعوت سے نکلے، جس میں ہمیں بلایا گیا تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باوضو تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا کھانے کے بعد دوبارہ وضو کیا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا آپ باوضو نہیں تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں! (یعنی میں باوضو تھا) لیکن بعد میں نیا حکم آ جاتا ہے، اور یہ نئے حکم میں سے ہے (یعنی یہ کہ پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد دوبارہ وضو کیا جائے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن صالح ہے، جو لیث کا کاتب ہے، اسے عبدالملک بن سوید بن لیث نے ”ثقہ“ قرار دیا ہے، جبکہ امام أحمد اور ایک جماعت نے اُسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے، اس پر جھوٹ بولنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1304]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1305
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أُمَامَةَ الْبَلَوِيِّ - وَكَانَ اسْمَهُ إِيَاسُ بْنُ ثَعْلَبَةَ، قَدْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ أَبِيهِ قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنَ الْغَمْرِ، وَلَا يُؤْذِيَ بَعْضُنَا بَعْضًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْوَاقِدِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن ابوامامہ بلوی، جن (یعنی ابوامامہ) کا نام ایاس بن ثعلبہ ہے، اور انہیں نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہونے کا شرف حاصل ہے، وہ (یعنی عبداللہ) اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: اللہ کے رسول نے ہمیں یہ حکم دیا تھا کہ ہم ”غمر“ (یعنی کوئی پکی ہوئی چیز کھا لینے) کے بعد وضو کر لیں، اور ہم میں سے کوئی ایک دوسرے کو اذیت نہ پہنچائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1305]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں