🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

79. بَابٌ فِي الصَّلَاةِ بَيْنَ الْقُبُورِ وَاتِّخَاذِهَا مَسَاجِدَ وَالصَّلَاةِ إِلَيْهَا .
قبروں کے درمیان نماز ادا کرنا یا انہیں مساجد بنا لینا یا ان کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2057
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَدْخِلْ عَلَيَّ أَصْحَابِي" فَدَخَلُوا عَلَيْهِ، فَكَشَفَ الْقِنَاعَ ثُمَّ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: میرے اصحاب کو میرے پاس لے کے آؤ آپ کے اصحاب آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا اور پھر ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا تھا۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2057]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2058
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2058]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2059
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" مِنْ شَرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُمُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذِ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: لوگوں میں سب سے برے وہ لوگ ہوں گے جنہیں قیامت آ لے گی، اور وہ اس وقت زندہ ہوں گے اور وہ لوگ (سب سے زیادہ برے) ہیں جو قبروں کو مساجد بنا لیتے ہیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2059]

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2060
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تُصَلُّوا إِلَى قَبْرٍ وَلَا تُصَلُّوا عَلَى قَبْرٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَيْسَانَ الْمَرْوَزِيُّ ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: قبر کی طرف رُخ کر کے نماز ادا نہ کرو اور قبر پر نماز ادا نہ کرو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن کیسان مروزی ہے، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے، اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے ثقہ قرار دیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2060]
تخریج الحدیث: «المعجم الكبير للطبراني من اسمه عبد الله وما اسند عبد الله بن عباس رضي الله عنهما عكرمة عن ابن عباس 11841»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2061
وَعَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَقِيتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ فَقُلْتُ: مَا أَعْمَلَنِي إِلَى الشَّامِ غَيْرُكَ، فَحَدِّثْنِي بِمَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" اللَّهُمَّ ارْحَمْنَا وَاغْفِرْ لَنَا" وَنَهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ إِلَى الْقُبُورِ أَوْ نَجْلِسَ عَلَيْهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ وَفِيهِ كَلَامٌ.
عون بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری ملاقات سیدنا واثلہ بن اسقع سے ہوئی میں نے کہا: میری شام آمد کا مقصد صرف آپ سے ملاقات ہے، آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو، تو انہوں نے بتایا: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: اے اللہ! تو ہم پر رحم فرما اور ہماری مغفرت کر دے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم لوگوں کو اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم قبروں کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کریں یا ہم ان پر بیٹھ جائیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، جس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2061]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2062
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنِ الصَّلَاةِ بَيْنَ الْقُبُورِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبروں کے درمیان نماز ادا کرنے سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2062]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
وَعَنْ عَلِيٍّ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي طَالِبٍ - قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ:" ائْذَنْ لِلنَّاسِ عَلَيَّ" فَأَذِنْتُ قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا" ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" يَا عَلِيُّ ائْذَنْ لِلنَّاسِ عَلَيَّ" فَأَذِنْتُ لِلنَّاسِ عَلَيْهِ فَقَالَ" لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا" ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ، فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ:" يَا عَلِيُّ ائْذَنْ لِلنَّاسِ" فَأَذِنْتُ لَهُمْ فَقَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ قَوْمًا اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسْجِدًا"، ثَلَاثًا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ أَبُو الرُّقَادِ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ حُنَيْفٍ الْمُؤَذِّنِ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ مُوَثَّقُونَ.
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری کے دوران جس میں آپ کا وصال ہو گیا اس کے دوران مجھ سے یہ ارشاد فرمایا: لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے اجازت دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی پھر جب آپ کو افاقہ ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے علی لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے آنے کی اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہوئی جب آپ کو ہوش آیا تو آپ نے فرمایا: اے علی لوگوں کو میرے پاس آنے کی اجازت دو میں نے اجازت دی تو آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجد بنا لیا تھا۔ (راوی کہتے ہیں:) یعنی آپ نے اپنے مرض الموت کے دوران تین مرتبہ یہ بات ارشاد فرمائی۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ابورقاد ہے، اس کے حوالے سے حنیف مؤذن کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے، اس روایت کے بقیہ رجال کی توثیق کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2063]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2064
وَعَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ"، قَالَ: وَأَحْسَبُهُ قَالَ:"أَخْرِجُوا الْيَهُودَ مِنْ أَرْضِ الْحِجَازِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ یہودیوں پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔ راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بھی ارشاد فرمائی تھی: یہودیوں کو حجاز کی سرزمین سے نکال دینا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2064]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2065
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يُتَّخَذَ قَبْرِي وَثَنًا، فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى اشْتَدَّ غَضَبُهُ عَلَى قَوْمٍ اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ صُهْبَانَ وَقَدِ اجْتَمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہا: (یعنی یہ دعا کی:) اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میری قبر کو بت بنا دیا جائے بے شک اللہ تعالی کا غضب اس قوم پر شدید ہو گا جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مساجد بنا لیا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عمر بن صہبان ہے، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2065]

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں