مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
147. بَابُ النَّفْخِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز کے دوران پھونک مارنا
حدیث نمبر: 2452
عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّفْخِ فِي السُّجُودِ وَعَنِ النَّفْخِ فِي الشَّرَابِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِلْيَاسَ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے میں پھونک مارنے اور مشروب میں پھونک مارنے سے منع کیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2452]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی خالد بن الیاس ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2452]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 2453
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَلْيَتَبَوَّأْ مَوْضِعَ سُجُودِهِ وَلَا يَدَعْهُ حَتَّى إِذَا هَوَى لِيَسْجُدَ نَفَخَ ثُمَّ سَجَدَ فَلْيَسْجُدْ أَحَدُكُمْ عَلَى جَمْرَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى نَفْخَتِهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمُنْعِمِ بْنُ بَشِيرٍ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: جب کوئی شخص نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو تو وہ اپنے سجدے کے مقام کو تیار کر لے وہ اسے ایسے ہی نہ رہنے دے کہ جب وہ سجدے میں جانے کے لئے جھکے تو پہلے پھونک مارے اور پھر سجدہ کرے آدمی انگارے پر سجدہ کر لے یہ اس کے لئے اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ ایسی جگہ پر سجدہ کرے، جہاں اس نے پہلے پھونک ماری ہو“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے، اور وہ منکرالحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2453]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالمنعم بن بشیر ہے، اور وہ منکرالحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2453]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف جداً