مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
159. بَابُ الْبُكَاءِ فِي الصَّلَاةِ .
نماز کے دوران رونا
حدیث نمبر: 2486
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبِيتُ فَيُنَادِيهِ بِلَالٌ بِالْأَذَانِ فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ فَإِنِّي لِأَرَى الْمَاءَ يَنْحَدِرُ عَلَى خَدِّهِ وَشَعْرِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي فَأَسْمَعُ بُكَاءَهُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات بسر کی سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دے کر آپ کو بلایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے آپ نے غسل کیا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے رخساروں اور بالوں پر پانی کے قطرے پھیلتے ہوئے دیکھے پھر آپ تشریف لے گئے اور آپ نے نماز ادا کی تو میں نے آپ کے رونے کی آواز سنی۔۔۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2486]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 2486]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح۔