مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابٌ فِي مَوْتِ الْغَرِيبِ .
غریب الوطنی کے عالم میں موت کا بیان
حدیث نمبر: 3881
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَوْتُ الْغَرِيبِ شَهَادَةٌ إِذَا احْتُضِرَ فَرَمَى بِبَصَرِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ فَلَمْ يَرَ إِلَّا غَرِيبًا وَذَكَرَ أَهْلَهُ وَوَلَدَهُ فَتَنَفَّسَ فَلَهُ بِكُلِّ نَفَسٍ يَتَنَفَّسُهُ يَمْحُو اللَّهُ عَنْهُ أَلْفَيْ أَلْفِ سَيِّئَةٍ وَيَكْتُبُ لَهُ أَلْفَيْ أَلْفِ حَسَنَةٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ الْحُصَيْنِ الْعُقَيْلِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”غریب الوطنی کی موت شہادت ہوتی ہے، جب اس کا آخری وقت آتا ہے، اور وہ نگاہ اٹھا کر دائیں بائیں دیکھتا ہے، تو اسے غریب الوطنی دکھائی دیتی ہے وہ اپنے اہل خانہ اور اپنی اولاد کو یاد کرتا ہے، اور گہرے سانس لیتا ہے، تو ہر ایک سانس جو وہ کھینچتا ہے، تو اس کے عوض میں اللہ تعالیٰ اس کی دو ہزار ہزار (یعنی بیس لاکھ) برائیاں ختم کر دیتا ہے، اور اس کے لئے دو ہزار ہزار (یعنی بیس لاکھ) نیکیاں نوٹ کرتا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3881]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن حصین عقیلی ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3881]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً