🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

33. بَابٌ فِيمَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ .
جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے، اس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3889
عَنْ سَلْمَانَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ اسْتَوْجَبَ شَفَاعَتِي، وَكَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنَ الْآمَنِينَ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْغَفُورِ بْنُ سَعِيدٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے اس کے لئے میری شفاعت واجب ہو جائے گی، اور وہ شخص قیامت کے دن امن والے لوگوں میں سے ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالغفور بن سعید ہے، اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3889]

الحكم على الحديث: ضعیف جداً
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3890
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَنْ مَاتَ فِي أَحَدِ الْحَرَمَيْنِ بُعِثَ آمِنًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَسْرُوقِيُّ وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ وَضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جو شخص حرمین میں سے کسی ایک جگہ انتقال کر جائے قیامت کے دن اسے امن کی حالت میں دوبارہ زندہ کیا جائے گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبدالرحمن مسروقی ہے۔ ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب ”الثقات“ میں کیا ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن مومل ہے۔ ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ”ثقہ“ قرار دیا ہے۔ امام أحمد اور دیگر حضرات نے اسے ”ضعیف“ قرار دیا ہے۔ اس روایت کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 3890]
تخریج الحدیث: «المعجم الصغير للطبراني، من اسمه محمد، حديث 828 المعجم الأوسط للطبراني، باب العين، باب المميم من اسمه محمد، حديث 5991، شعب الإيمان للبيهقي، فضل الحج والعمرة، 4010»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں