مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
80. بَابُ الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ .
جنازے کے لیے کھڑا ہونا
حدیث نمبر: 4110
عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا وَقَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأَى جِنَازَةً فَقَامَ لَهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِمَا يَشْفِي.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مَنَّاحٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ بِمَا يَشْفِي.
سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے۔ انہوں نے جنازہ دیکھا تو وہ کھڑے ہو گئے پھر انہوں نے یہ بات بیان کی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے جنازے کو دیکھا تو اس کے لئے کھڑے ہو گئے تھے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمران بن مناح ہے میں نے کسی کو اس کے ایسے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا جو شفاء بخش ہوں (یعنی ضرورت پوری کر دیں)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4110]
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عمران بن مناح ہے میں نے کسی کو اس کے ایسے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا جو شفاء بخش ہوں (یعنی ضرورت پوری کر دیں)۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4110]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4111
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّهُ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، تَمُرُّ بِنَا جِنَازَةُ الْكَافِرِ نَقُومُ لَهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ قُومُوا لَهَا ; فَإِنَّكُمْ لَسْتُمْ تَقُومُونَ لَهَا إِنَّمَا تَقُومُونَ إِعْظَامًا لِلَّذِي يَقْبِضُ الْأَرْوَاحَ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ ہمارے پاس سے کافر کا جنازہ بھی گزرتا ہے، تو کیا ہم اس کے لئے بھی کھڑے ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں۔ تم اس کے لئے کھڑے ہو کیونکہ تم اس جنازے کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہو تم اس ذات کے لئے کھڑے ہوتے ہو جو ارواح کو قبض کرتی ہے“۔
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4111]
یہ روایت امام أحمد امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4111]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4112
وَعَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ لَهَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ كَثِيرٌ، وَقَدْ وُثِّقَ.
سیدنا ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ اس کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4112]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اس کے بارے میں بہت زیادہ کلام کیا گیا ہے، اور اس کی توثیق بھی کی گئی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4112]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى المسند (6573)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 4113
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ: لَا نَعْلَمُهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ کھڑے ہوئے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں ہمارے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ سیدنا ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4113]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ وہ یہ فرماتے ہیں ہمارے علم کے مطابق
یہ روایت سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے حوالے سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے بعض حضرات نے یہ بات بیان کی ہے یہ سیدنا ابوسعید بن زید رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4113]
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 4114
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهَا جِنَازَةُ يَهُودِيٍّ؟ فَقَالَ:" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ غَيْرُ هَذَا.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
قُلْتُ: وَلِأَبِي هُرَيْرَةَ عِنْدَ النَّسَائِيِّ فِي الْقِيَامِ لِلْجِنَازَةِ غَيْرُ هَذَا.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک یہودی کا جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے عرض کی گئی: یا رسول اللہ! یہ ایک یہودی کا جنازہ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: موت کی پریشانی ہوتی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے جو جنازے کے لئے کھڑے ہونے کے بارے میں ہے، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4114]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت نقل کی ہے جو جنازے کے لئے کھڑے ہونے کے بارے میں ہے، اور وہ اس روایت کے علاوہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4114]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4115
وَعَنْ أَبِي مُوسَى - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا فَإِنَّهُ لَيْسَ لَهَا نَقُومُ وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ".
قَالَ لَيْثٌ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ فَقَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً ؛ إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا يُقِيِمُكُمْ؟ فَقُلْنَا: هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا ; فَإِنَّهُ لَيْسَ نَقُومُ لَهَا وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى فَمَا عَادَ بَعْدُ.
قُلْتُ: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
قَالَ لَيْثٌ: فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ لِمُجَاهِدٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ الْأَزْدِيُّ فَقَالَ: إِنَّا لَجُلُوسٌ مَعَ عَلِيٍّ نَنْتَظِرُ جِنَازَةً ؛ إِذْ مَرَّتْ بِنَا أُخْرَى فَقُمْنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا يُقِيِمُكُمْ؟ فَقُلْنَا: هَذَا مَا تَأْتُونَا بِهِ يَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ: وَمَا ذَاكَ؟ قُلْتُ: زَعَمَ أَبُو مُوسَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِذَا مَرَّتْ بِكُمْ جِنَازَةٌ فَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، أَوْ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا فَقُومُوا لَهَا ; فَإِنَّهُ لَيْسَ نَقُومُ لَهَا وَلَكِنْ نَقُومُ لِمَنْ مَعَهَا مِنَ الْمَلَائِكَةِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ: مَا فَعَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَيْرَ مَرَّةٍ بِرَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ، كَانُوا أَهْلَ كِتَابٍ وَكَانَ يَتَشَبَّهُ بِهِمْ، فَإِذَا نُهِيَ انْتَهَى فَمَا عَادَ بَعْدُ.
قُلْتُ: حَدِيثُ عَلِيٍّ رَوَاهُ النَّسَائِيُّ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ.
سیدنا ابوموسی اشعری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جب تمہارے پاس سے کوئی جنازہ گزرے تو خواہ وہ مسلمان ہو، یا عیسائی ہو، یا یہودی ہو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے ہیں بلکہ ہم اس وجہ سے کھڑے ہوتے ہیں جو فرشتے اس کے ساتھ ہوتے ہیں“۔ لیث بیان کرتے ہیں: میں نے مجاہد کو یہ حدیث بیان کی، تو انہوں نے بتایا: عبداللہ بن سخبرہ ازدی نے مجھے یہ حدیث بیان کی وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے جنازے کا انتظار کر رہے تھے اسی دوران ایک جنازہ گزرا تو ہم کھڑے ہو گئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تم لوگ کیوں کھڑے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: یہ اس وجہ سے ہے، جو (حدیث) آپ نے ہمیں بیان کی ہے: اے سیدنا محمد کے اصحاب! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: وہ کون سی حدیث ہے؟ میں نے کہا: سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”جب تمہارے پاس سے جنازہ گزرے خواہ مسلمان کا ہو، یا یہودی کا ہو، یا عیسائی کا ہو تو تم اس کے لئے کھڑے ہو جاؤ کیونکہ ہم اس کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ ہم اس کے ساتھ جانے والے فرشتوں کے لئے کھڑے ہوتے ہیں“۔ سیدنا علی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا صرف ایک یہودی کے لئے کیا تھا، آپ (امور میں) اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار کرتے تھے، جب آپ کو اس سے منع کر دیا گیا، تو آپ باز آ گئے اور اس کے بعد ایسا نہیں کیا۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4115]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث کو امام نسائی رحمہ اللہ نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے وہ ثقہ ہے، لیکن تدلیس کرنے والا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4115]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4116
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّتْ بِهِ جِنَازَةٌ فَقَامَ فَقِيلَ لَهُ فَقَالَ:" إِنَّ لِلْمَوْتِ فَزَعًا".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ الْأَسَدِيُّ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا آپ کھڑے ہو گئے اس بارے میں آپ کی خدمت میں عرض کی گئی: تو آپ نے ارشاد فرمایا: موت کی مخصوص گھبراہٹ ہوتی ہے۔
یہ روایت امام بزاز نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع اسدی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4116]
یہ روایت امام بزاز نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع اسدی ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4116]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام البزار فى المسند (838)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4117
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ لِجِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّتْ عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ أَبُو يَحْيَى الْقَتَّاتُ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک یہودی کے جنازے کے لئے کھڑے ہوتے ہوئے دیکھا ہے، جو آپ کے پاس سے گزرا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4117]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابویحیی قتات ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4117]
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4118
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ: تَذَاكَرْنَا الْقِيَامَ عِنْدَ الْجِنَازَةِ عِنْدَ عَلِيٍّ فَقَالَ أَبُو مَسْعُودٍ: مَا زِلْنَا نَفْعَلُهُ. فَقَالَ عَلِيٌّ: صَدَقْتَ ; ذَاكَ وَأَنْتُمْ يَهُودُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
زید بن وہب بیان کرتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں جنازے کے لیے قیام کے معاملے میں گفتگو کر رہے تھے تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہم مسلسل ایسا کرتے رہے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے ٹھیک کہا: ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تم یہودی ہو۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4118]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4118]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (252/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4119
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: إِنَّمَا قَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جِنَازَةِ يَهُودِيٍّ مَرَّ بِهَا عَلَيْهِ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے جنازے کی وجہ سے کھڑے ہو گئے تھے جو آپ کے پاس سے گزرا تھا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4119]
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4119]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن