مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
82. بَابُ الصَّمْتِ وَالتَّفَكُّرِ لِمَنْ تَبِعَ جِنَازَةً .
جو شخص جنازے کے ساتھ چلتا ہے س کے لئے خاموش رہنے اور غور و فکر کا (حکم ہونا)
حدیث نمبر: 4129
عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُحِبُّ الصَّمْتَ عِنْدَ ثَلَاثٍ: عِنْدَ تِلَاوَةِ الْقُرْآنِ، وَعِنْدَ الزَّحْفِ، وَعِنْدَ الْجِنَازَةِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ.
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بے شک اللہ تعالیٰ تین مواقع پر خاموشی کو پسند کرتا ہے قرآن کی تلاوت کے وقت، میدان جنگ میں اور جنازے کے وقت“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4129]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5130)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4130
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ إِذَا شَهِدَ جِنَازَةً رُئِيَتْ عَلَيْهِ كَآبَةٌ وَأَكْثَرَ حَدِيثَ النَّفْسِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
قُلْتُ: وَتَأْتِي آثَارٌ فِي هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ، وَفِي بَابِ مَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
قُلْتُ: وَتَأْتِي آثَارٌ فِي هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ، وَفِي بَابِ مَا يَقُولُ عِنْدَ إِدْخَالِ الْمَيِّتِ الْقَبْرَ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی جنازے میں شریک ہوتے تھے تو آپ پر پریشانی کے آثار نمایاں ہوتے تھے، اور آپ زیادہ تر اپنے خیالوں میں گم ہوتے تھے (یعنی دوسروں کے ساتھ بات چیت نہیں کرتے تھے)۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس بارے میں مختلف آثار ”مناقب“ سے متعلق باب میں آئیں گے اور اس باب میں آئیں گے کہ جب میت کو قبر میں داخل کیا جائے تو اس وقت کیا پڑھا جائے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4130]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس بارے میں مختلف آثار ”مناقب“ سے متعلق باب میں آئیں گے اور اس باب میں آئیں گے کہ جب میت کو قبر میں داخل کیا جائے تو اس وقت کیا پڑھا جائے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْجَنَائِزِ/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11189)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف