مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ التَّعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ .
زکوۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنا
حدیث نمبر: 4443
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِي فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَمْ صَدَقَةُ كَذَا وَكَذَا؟ قَالَ:" كَذَا وَكَذَا" قَالَ: فَإِنَّ فُلَانًا تَعَدَّى عَلَيَّ قَالَ: فَنَظَرُوا فَوَجَدُوهُ قَدْ تَعَدَّى عَلَيْهِ بِصَاعٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ بِكُمْ إِذَا سَعَى عَلَيْكُمْ مَنْ يَتَعَدَّى عَلَيْكُمْ أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي".
رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ:" أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي" فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ، حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ هَكَذَا وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ بَعْدَ قَوْلِهِ:" أَشَدَّ مِنْ هَذَا التَّعَدِّي" فَخَاضَ الْقَوْمُ وَبَهَرَهُمُ الْحَدِيثُ، حَتَّى قَالَ رَجُلٌ مِنْهُمْ: كَيْفَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ رَجُلٌ غَائِبٌ عَنْكَ فِي إِبِلِهِ وَمَاشِيَتِهِ وَزَرْعِهِ فَأَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ فَتُعُدِّيَ عَلَيْهِ فَكَيْفَ يَصْنَعُ، وَهُوَ عَنْكَ غَائِبٌ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَدَّى زَكَاةَ مَالِهِ طَيِّبَ النَّفْسِ بِهَا يُرِيدُ بِهَا وَجْهَ اللَّهِ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ، فَلَمْ يُغَيِّبْ شَيْئًا مِنْ مَالِهِ، وَأَقَامَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ أَدَّى الزَّكَاةَ، فَتَعُدِّيَ عَلَيْهِ فِي الْحَقِّ فَأَخَذَ سِلَاحَهُ فَقَاتَلَ فَقُتِلَ فَهُوَ شَهِيدٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَرِجَالُ الْجَمِيعِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں موجود تھے، ایک شخص آیا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! فلاں فلاں چیز کی زکوۃ کتنی بنے گی؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اتنی اور اتنی بنے گی، اس نے عرض کی: پھر فلاں شخص نے ہمارے ساتھ زیادتی کی ہے، راوی کہتے ہیں: جب ان لوگوں نے تحقیق کی، تو پتہ چلا کہ اس نے ایک صاع کی زیادتی کی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا؟ جب تمہارے پاس وصولی کرنے والا ایسا شخص آئے گا، جو اس زیادتی سے زیادہ زیادتی تمہارے ساتھ کرے گا“۔
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا، کھیتوں میں ہو گا، اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا، اور نماز قائم کرے گا، اور زکوۃ ادا کرے گا، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے، اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید شمار ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس سب کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4443]
یہ روایت امام أحمد نے اس طرح نقل کی ہے۔ امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اس زیادتی سے زیادہ زیادتی کرے گا، تو وہ لوگ زیادہ پریشان ہو گئے اور اس بات نے انہیں پریشان کر دیا یہاں تک کہ ان میں سے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! اس وقت کیا ہو گا کہ جب کوئی شخص آپ کو چھوڑ کر اپنے اونٹوں اور جانوروں میں ہو گا، کھیتوں میں ہو گا، اور پھر اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا اور پھر اس کے ساتھ زیادتی کی جائے گی، تو اس وقت اسے کیا کرنا چاہیے جبکہ وہ آپ کے پاس موجود نہ ہو؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اپنی دلی خوشی کے ساتھ اپنے مال کی زکوۃ ادا کرے گا، اور وہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے حصول کا ارادہ رکھے گا، اور اپنے مال میں سے کوئی بھی چیز نہیں چھپائے گا، اور نماز قائم کرے گا، اور زکوۃ ادا کرے گا، پھر حق کے معاملے میں اس کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے، تو اگر وہ اپنا ہتھیار لے کر جنگ کرتا ہے، اور مارا جاتا ہے، تو وہ شہید شمار ہو گا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس سب کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4443]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (287/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4444
وَعَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: جَلَسَ إِلَيْنَا شَيْخٌ فِي دُكَّانِ أَيُّوبَ فَسَمِعَ الْقَوْمَ يَتَحَدَّثُونَ فَقَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَايَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ لَهُ: مَا اسْمُهُ؟ قَالَ: قُرَّةُ بْنُ دُعْمُوصٍ النُّمَيْرِيُّ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَوْلَهُ النَّاسُ، فَجَعَلْتُ أُرِيدُ أَنْ أَدْنُوَ مِنْهُ فَلَمْ أَسْتَطِعْ فَنَادَيْتُهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اسْتَغْفِرْ لِلْغُلَامِ النُّمَيْرِيِّ، قَالَ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ"، قَالَ: وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ سَاعِيًا فَلَمَّا رَجَعَ رَجَعَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَتَيْتَ هِلَالَ بْنَ عَامِرٍ، وَنُمَيْرَ بْنَ عَامِرٍ، وَعَامِرَ بْنَ رَبِيعَةَ، فَأَخَذْتَ جِلَّةَ أَمْوَالِهِمْ؟". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي سَمِعْتُكَ تَذْكُرُ الْغَزْوَ فَأَحْبَبْتُ أَنْ آتِيَكَ بِإِبِلٍ جِلَّةٍ تَرْكَبُهَا وَتَحْمِلُ عَلَيْهَا. فَقَالَ:" وَاللَّهِ لَلَّذِي تَرَكْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنَ الَّذِي أَخَذْتَ، ارْدُدْهَا وَخُذْ مِنْ حَوَاشِي أَمْوَالِهِمْ وَصَدَقَاتِهِمْ". قَالَ: فَسَمِعْتُ الْمُسْلِمِينَ يُسَمُّونَ تِلْكَ الْإِبِلَ الْمَسَانَّ الْمُجَاهِدَاتِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
جریر بن حازم بیان کرتے ہیں: ایوب کے چبوترے پر، ایک صاحب ہمارے پاس آ کر بیٹھے، انہوں نے لوگوں کو بات چیت کرتے ہوئے سنا، تو یہ بات بیان کی: میرے آقا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حدیث بیان کی ہے، میں نے ان سے دریافت کیا: اُن کا نام کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: سیدنا قرہ بن دعموص نمیری رضی اللہ عنہ، وہ بیان کرتے ہیں: میں مدینہ منورہ آیا، میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، لوگ آپ کے ارد گرد موجود تھے، میں آپ کے قریب ہونے کی کوشش کرنے لگا، میں ایسا نہیں کر پایا، تو میں نے آپ کو بلند آواز میں پکار کر کہا: یا رسول اللہ! آپ نمیری فرد کے لئے دعائے مغفرت کیجیئے! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی تمہاری مغفرت کرے، راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کو زکوۃ وصول کرنے والے کے طور پر بھیجا، جب وہ واپس آئے، تو وہ عمدہ اونٹ لے کر آئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ہلال بن عامر، نمیر بن عامر اور عامر بن ربیعہ کے پاس گئے اور پھر تم نے ان کے بہترین اموال حاصل کر لئے؟ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے آپ کو سنا تھا کہ آپ کسی جنگ کا ذکر کر رہے تھے، تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ میں آپ کے پاس عمدہ اونٹ لے کے آؤں، تاکہ آپ اُن پر سوار ہو سکیں اور سواری کے لئے دے سکیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی قسم! جسے تم چھوڑ کے آئے ہو، وہ میرے نزدیک ان سے زیادہ پسندیدہ ہیں جو تم نے وصول کیے ہیں، تم انہیں واپس کر دو! اور درمیانے درجے کے اموال اور صدقات حاصل کرو“۔ رادی کہتے ہیں: تو میں نے مسلمانوں کو سنا کہ انہوں نے ان اونٹوں کا نام ”مسان مجاہدات“ رکھا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4444]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے، اس روایت کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4444]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (35/19) اخرجه الامام احمد فى المسند (72/5)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 4445
وَعَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ أَبِي النَّضْرِ قَالَ: جَلَسَ إِلَيَّ شَيْخٌ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ فِي مَسْجِدِ الْبَصْرَةِ وَمَعَهُ صَحِيفَةٌ فِي يَدِهِ قَالَ: وَذَاكَ فِي زَمَنِ الْحَجَّاجِ، فَقَالَ لِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، تَرَى هَذَا الْكِتَابَ مُغْنِيًا عَنِّي شَيْئًا عِنْدَ هَذَا السُّلْطَانِ؟ قَالَ: قُلْتُ: وَمَا هَذَا الْكِتَابُ؟ قَالَ: هَذَا كِتَابٌ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَهُ لَنَا أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا. قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَظُنُّ أَنْ يُغْنِيَ عَنْكَ شَيْئًا. وَكَيْفَ كَانَ شَأْنُ هَذَا الْكِتَابِ؟ قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلَامٌ شَابٌّ بِإِبِلٍ لَنَا نَبِيعُهَا، وَكَانَ أَبِي صَدِيقًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ التَّمِيمِيِّ فَنَزَلْنَا الْمَدِينَةَ، فَقَالَ لَهُ أَبِي: اخْرُجْ مَعِي فَبِعْ لِي إِبِلِي هَذِهِ قَالَ: فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ نَهَى أَنْ يَبِيعَ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلَكِنْ سَأَخْرُجُ مَعَكَ وَأَجْلِسُ، وَتَعْرِضُ إِبِلَكَ، فَإِذَا رَضِيتَ مِنْ رَجُلٍ وَفَاءً وَصِدْقًا مِمَّنْ سَاوَمَكَ أَمَرْتُكَ بِبَيْعِهِ. قَالَ: فَخَرَجْنَا إِلَى السُّوقِ فَوَقَّفْنَا ظُهْرَنَا، وَجَلَسَ طَلْحَةُ قَرِيبًا، فَسَاوَمَنَا الرِّجَالُ حَتَّى إِذَا أَعْطَانَا رَجُلٌ مَا نَرْضَى قَالَ لَهُ أَبِي: أُبَايِعُهُ؟ قَالَ: بِعْهُ، قَدْ رَضِيتُ لَكُمْ وَفَاءً فَبَايِعُوهُ. فَبَايَعْنَاهُ فَلَمَّا قَبَضْنَا مَالَنَا، وَفَرَغْنَا مِنْ حَاجَتِنَا، قَالَ أَبِي لِطَلْحَةَ: خُذْ لَنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابًا أَنْ لَا يُعْتَدَى عَلَيْنَا فِي صَدَقَاتِنَا قَالَ: فَقَالَ: هَذَا لَكُمْ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ. قَالَ: عَلَى ذَلِكَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابٌ، قَالَ: فَخَرَجَ حَتَّى جَاءَ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ صَدِيقٌ لَنَا، يُرِيدُ أَنْ يَكُونَ لَهُ كِتَابٌ أَنْ لَا يُتَعَدَّى عَلَيْهِ فِي صَدَقَتِهِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَذَا لَهُ وَلِكُلِّ مُسْلِمٍ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُ قَدْ أَحَبَّ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْكَ كِتَابٌ عَلَى ذَلِكَ. قَالَ: فَكَتَبَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَذَا الْكِتَابَ.
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي عَنْ طَلْحَةَ فَقَطْ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْحَاضِرِ لِلْبَادِي عَنْ طَلْحَةَ فَقَطْ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سالم بن ابوامیہ ابونضر بیان کرتے ہیں: بنوتمیم سے تعلق رکھنے والے ایک بزرگ میرے پاس مسجد بصرہ میں بیٹھے، اُن کے پاس ان کے ہاتھ میں ایک صحیفہ موجود تھا، راوی کہتے ہیں: یہ حجاج کے زمانے کی بات ہے۔ انہوں نے مجھ سے کہا: اے اللہ کے بندے! کیا تم یہ سجھتے ہو کہ یہ تحریر مجھے اس حکمران کے پاس کسی چیز میں کام آ سکتی ہے؟ میں نے کہا: یہ تحریر کیا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ اللہ کے رسول کا مکتوب ہے، جو آپ نے ہمارے لئے تحریر کیا تھا کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا نہیں خیال کہ یہ آپ کے کسی کام آ سکے گی، ویسے اس تحریر کا معاملہ کیا ہے؟ تو ان صاحب نے بتایا: میں اپنے والد کے ساتھ مدینہ منورہ آیا، میں اُن دنوں لڑکا تھا، ہم اپنا اونٹ لے کے آئے تھے، جسے ہم فروخت کرنا چاہتے تھے، میرے والد سیدنا طلحہ بن عبیداللہ تمیمی رضی اللہ عنہ کے دوست تھے، ہم نے مدینہ منور میں پڑاؤ کیا، میرے والد نے اُن سے کہا: آپ میرے ساتھ چلیں اور میرا یہ اونٹ فروخت کروا دیں، تو انہوں نے بتایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، کہ شہری شخص دیہاتی شخص کی کوئی چیز فروخت کروائے، البتہ میں تمہارے ساتھ چلتا ہوں، میں بیٹھ جاؤں گا، اور تم اپنے اونٹ کو بیچنا، جب تم کسی شخص سے راضی ہو کہ جو تمہاری پسند کے مطابق بھاؤ دے رہا ہو، تو پھر میں تمہیں اُسے فروخت کرنے کی ہدایت کر دوں گا، راوی کہتے ہیں: ہم لوگ بازار کی طرف گئے، ہم نے اپنے جانور کھڑے کیے، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ قریب بیٹھ گئے، مختلف لوگوں نے ہمارے ساتھ بھاؤ تاؤ کیا، یہاں تک کہ جب ایک شخص نے ہمیں ہماری پسند کی قیمت دینے کا طے کیا، تو میرے والد نے اُن سے دریافت کیا: کیا میں اسے فروخت کر دوں؟ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم اسے فروخت کر دو، میں تمہاری ادائیگی سے راضی ہوں، تم اس کے ساتھ سودا کر لو، ہم نے اس شخص کے ساتھ سودا کر لیا، جب ہم نے اپنا مال قبضے میں لیا اور اپنے کام سے فارغ ہو گئے، تو میرے والد نے سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی تحریر لے دیں کہ ہماری زکوۃ کے بارے میں ہمارے ساتھ زیادتی نہ کی جائے تو انہوں نے کہا: یہ سہولت، تو تمہیں اور ہر مسلمان کو حاصل ہے، تو میرے والد نے کہا: (میں یہ چاہتا ہوں) میرے پاس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی تحریر ہونی چاہیے، راوی کہتے ہیں: پھر وہ نکلے، یہاں تک کہ ہمیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ شخص دیہاتی علاقے کا رہنے والا ہے، میرا دوست ہے، یہ چاہتا ہے کہ اس کے پاس یہ تحریر ہو کہ زکوة کے بارے میں اس کے ساتھ زیادتی نہ کی جائے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ حق، تو اس کو اور ہر مسلمان کو حاصل ہے۔ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ چاہتا ہے کہ آپ کی طرف سے اس بارے میں کوئی تحریر ہو، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں یہ تحریر لکھوا کے دیدی۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے، جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے،
یہ روایت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4445]
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: امام ابوداؤد نے اس روایت میں سے صرف یہ حصہ نقل کیا ہے، جو شہری کے دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت کرنے کے بارے میں ہے،
یہ روایت سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ سے منقول ہے۔ یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4445]
تخریج الحدیث: «اخرجه الامام احمد فى المسند (1404)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4446
وَعَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا جریر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”زکوۃ وصول کرنے میں، زیادتی کرنے والا، زکوۃ ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4446]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4446]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (2275)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4447
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا إِيمَانَ لِمَنْ لَا أَمَانَةَ لَهُ، وَالْمُتَعَدِّي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ; لَمْ يَسْمَعْ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى مِنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ ; لَمْ يَسْمَعْ إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى مِنْ جَدِّهِ عُبَادَةَ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اس شخص کا ایمان نہیں، جس کی امانت نہ ہو، اور زکوۃ وصول کرنے میں، زیادتی کرنے والا اُسے ادا نہ کرنے والے کی مانند ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند منقطع ہے، اسحاق بن یحیی نے اپنے دادا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4447]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اور اس کی سند منقطع ہے، اسحاق بن یحیی نے اپنے دادا سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4447]
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 4448
وَعَنِ الصُّنَابِحِيِّ قَالَ: أَبْصَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً حَسَنَةً فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ فَقَالَ:" قَاتَلَ اللَّهُ صَاحِبَ هَذِهِ النَّاقَةِ". فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الْإِبِلِ. قَالَ:" فَنِعْمَ إِذًا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ سِنَانٍ الرُّهَاوِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ کے اونٹوں میں ایک عمدہ اونٹنی دیکھی، تو فرمایا: اللہ تعالی اس اونٹنی وصول کرنے والے شخص کو برباد کرے، اُس شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے عام سے دو اونٹوں کے عوض میں اسے لیا ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر ٹھیک ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4448]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن یزید بن سنان رہاوی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4448]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7417) اخرجه ابو يعلي فى المسند (1453)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف