مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
49. بَابُ الصَّدَقَةِ الَّتِي عَلَى الْإِنْسَانِ كُلَّ يَوْمٍ .
ہر انسان پر روزانہ کتنا صدقہ لازم ہوتا ہے؟
حدیث نمبر: 4573
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مِنَ الْإِنْسَانِ صَلَاةٌ". فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: هَذَا شَدِيدٌ، وَمَنْ يُطِيقُ هَذَا؟ فَقَالَ:" أَمَرٌ بِالْمَعْرُوفِ صَلَاةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَلَاةٌ، وَإِنَّ حَمْلًا عَنِ الضَّعِيفِ صَلَاةٌ، وَإِنَّ كُلَّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَحَدُكُمْ إِلَى صَلَاةٍ صَلَاةٌ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”انسانوں میں سے ہر مسلمان جب صبح کرتا ہے، تو اس پر صلوٰۃ لازم ہوتی ہے حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: یہ تو بہت مشکل ہے کون اس کی طاقت رکھتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نیکی کا حکم دینا نماز ہے برائی سے روکنا نماز ہے کمزور شخص کے لئے وزن لاد دینا نماز ہے ہر وہ قدم جسے کوئی شخص اٹھا کر نماز کی طرف جاتا ہے وہ نماز ہے“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4573]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف، لكن الحديث صحيح لوجود شاهدٍ له
حدیث نمبر: 4574
وَفِي رِوَايَةٍ:" يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ مِنَ ابْنِ آدَمَ كُلَّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ". بَدَلَ:" صَلَاةٌ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِيهَا:" وَيَجْزِي مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَا الضُّحَى". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَالصَّغِيرِ بِنَحْوِهِ، وَزَادَ فِيهَا:" وَيَجْزِي مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَا الضُّحَى". وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: ”اولاد آدم میں سے ہر مسلمان جب صبح کرتا ہے، تو روزانہ اس پر صدقہ لازم ہوتا ہے“۔ یہ لفظ نماز کی جگہ استعمال ہوا ہے۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”ان سب کی جگہ چاشت کی دو رکعات کفایت کر جاتی ہیں“۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4574]
یہ روایت امام ابویعلیٰ امام بزار امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ معجم صغیر میں اس کی مانند نقل کی ہے، اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”ان سب کی جگہ چاشت کی دو رکعات کفایت کر جاتی ہیں“۔ امام ابویعلیٰ کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4574]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1192، 1179، 1127) اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (639) اخرجه ابو يعلى فى المسند (2434، 2435) اخرجه الامام البزار فى المسند (926)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 4575
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ". فَقَالَ رَجُلٌ: مَنْ يُطِيقُ هَذَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" إِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ، وَإِرْشَادُكَ الرَّجُلَ الطَّرِيقَ صَدَقَةٌ، وَنَهْيُكَ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَعِيَادَتُكَ الْمَرِيضَ صَدَقَةٌ، وَاتِّبَاعُكَ الْجِنَازَةَ صَدَقَةٌ، وَرَدُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ السَّلَامَ صَدَقَةٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہر مسلمان پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہوتا ہے ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے تمہارا کسی شخص کی راستے کے بارے میں رہنمائی کر دینا صدقہ ہے تمہارا برائی سے روکنا صدقہ ہے تمہارا بیمار کی عیادت کرنا صدقہ ہے تمہارا جنازے کے ساتھ جانا صدقہ ہے مسلمان کا مسلمان کو سلام کا جواب دینا صدقہ ہے“۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4575]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 4576
وَفِي رِوَايَةٍ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْإِنْسَانُ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ عَظْمًا، أَوْ سِتَّةٌ وَثَلَاثُونَ سُلَامَى، عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ صَدَقَةٌ". قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَنْ لَمْ يَجِدْ؟ قَالَ:" يَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَى عَنِ الْمُنْكَرِ". قَالُوا: فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" يَرْفَعُ عَظْمًا مِنَ الطَّرِيقِ". قَالُوا: فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ؟ قَالَ:" فَلْيَهْدِ سَبِيلًا". قَالُوا: فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَلْيُعِنْ ضَعِيفًا". قَالُوا: فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ ذَلِكَ؟ قَالَ:" فَلْيَدَعِ النَّاسَ مِنْ شَرِّهِ".
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ كُلَّهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
قُلْتُ: هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِاخْتِصَارٍ.
رَوَاهُ كُلَّهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”انسان میں تین سو ساٹھ ہڈیاں ہوتی ہیں (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) تین سو تریسٹھ جوڑ ہوتے ہیں جن میں سے ہر ایک پر روزانہ صدقہ دینا لازم ہے۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! جو شخص اس کی طاقت نہ پاتا ہو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ نیکی کا حکم دے اور برائی سے منع کرے لوگوں نے عرض کی: جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ راستے سے ہڈی کو اٹھا دے لوگوں نے عرض کی: جو شخص اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ راستے کے بارے میں لوگوں کی رہنمائی کر دے لوگوں نے عرض کی: جو شخص اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگوں کی مدد کر دے لوگوں نے عرض کی: جو شخص اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگوں کو اپنے شر سے بچا کے رکھے“۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ پوری روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4576]
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: یہ روایت ”صحیح“ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے۔ یہ پوری روایت امام بزار نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4576]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح