🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

63. بَابُ الصَّدَقَةِ بِأَفْضَلِ مَا يَجِدُ .
اپنے پاس سے بہتر چیز صدقہ کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4631
عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا نَزَلَتْ: (مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا) ، قَالَ عَنِ الدَّحْدَاحِ: اسْتَقْرَضَنَا رَبُّنَا مِنْ أَمْوَالِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قَالَ: فَإِنَّ لِي حَائِطَيْنِ أَحَدُهُمَا بِالْعَالِيَةِ وَالْآخَرُ بِالسَّافِلَةِ ; فَقَدْ أَقْرَضْتُ خَيْرَهُمَا رَبِّي. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" هُوَ لِلْيَتِيمِ الَّذِي عِنْدَكُمْ". ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" رُبَّ عِذْقٍ لِابْنِ الدَّحْدَاحِ فِي الْجَنَّةِ مُدَلَّلٍ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: کون شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا۔ تو سیدنا ابن دحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ہمارے پروردگار نے ہمارے اموال میں سے قرض طلب کیا ہے یا رسول اللہ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انہوں نے عرض کی: پھر میرے دو باغ ہیں ان میں سے ایک بالائی حصہ میں ہے، اور دوسرا زیریں حصے میں ہے، اور ان میں سے جو زیادہ بہتر ہے وہ میں اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تمہارے آس پاس موجود یتیم بچوں کے لئے ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابن دحداح کے جنت میں کتنے ہی گچھے لٹک رہے ہیں۔

یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4631]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4632
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ: (مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا) قَالَ أَبُو الدَّحْدَاحِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَإِنَّ اللَّهَ يُرِيدُ مِنَّا الْقَرْضَ؟ قَالَ:" نَعَمْ يَا أَبَا الدَّحْدَاحِ". قَالَ: فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطِي ؛ حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ. ثُمَّ جَاءَ يَمْشِي حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ، وَفِيهِ أُمُّ الدَّحْدَاحِ فِي عِيَالِهَا فَنَادَاهَا: يَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ. قَالَتْ: لَبَّيْكَ. قَالَ: اخْرُجِي فَإِنِّي قَدْ أَقْرَضْتُ رَبِّي حَائِطًا فِيهِ سِتُّمِائَةِ نَخْلَةٍ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ حُمَيْدُ بْنُ عَطَاءٍ الْأَعْرَجُ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
قُلْتُ: وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الْمَنَاقِبِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: کون شخص اللہ تعالیٰ کو قرض حسنہ دے گا۔ تو سیدنا ابودحداح رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! اللہ تعالیٰ ہم سے قرض چاہتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جی ہاں۔ اے ابودحداح! انہوں نے عرض کی: پھر میں اپنے پروردگار کو اپنا باغ قرض کے طور پر دیتا ہوں وہ باغ جس میں چھ سو کھجور کے درخت ہیں پھر وہ چلتے ہوئے اپنے باغ میں آئے وہاں اُم دحداح اپنے گھر والوں میں موجود تھیں انہوں نے اسی خاتون کو پکار کر کہا: اے ام دحداح انہوں نے جواب دیا: میں حاضر ہوں۔ سیدنا ابوداحداح نے کہا: تم نکل آؤ کیونکہ میں نے یہ باغ اپنے پروردگار کو قرض کے طور پر دے دیا ہے، جس میں چھ سو کھجوروں کے درخت ہیں۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حمید بن عطاء اعرج ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں، اس نوعیت کی دیگر احادیث مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی، اگر اللہ نے چاہا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 4632]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (944)»

الحكم على الحديث: إسناده مصنف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں