مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابٌ بِمَاذَا يُحْلَفُ؟ وَالنَّهْيِ عَنِ الْحَلِفِ بِغَيْرِ اللَّهِ .
کس چیز کے ذریعے حلف اٹھایا جائے اور غیراللہ کے نام پر حلف اٹھانے کی ممانعت
حدیث نمبر: 6895
عَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَهُ قَالَ:" أَنْتَ رَسُولِي إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ. قُلْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقْرَأُ عَلَيْكُمُ السَّلَامَ وَيَأْمُرُكُمْ بِثَلَاثٍ: لَا تَحْلِفُوا بِغَيْرِ اللَّهِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَبِي الْمُخَارِقِ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھیجا تو ارشاد فرمایا: تم اہل مکہ کی طرف میرے قاصد ہو تم یہ بتا دینا کہ اللہ کے رسول نے تم لوگوں کو سلام کہا: ہے اور تمہیں تین چیزوں کا حکم دیا ہے تم غیر اللہ کے نام پر حلف نہ اٹھانا اس کے بعد راوی نے پوری ذکر کی ہے، جو اس سے پہلے گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6895]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبدالکریم بن ابومخارق ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6895]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (487/3)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6896
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" لَا تَحْلِفُوا بِالطَّوَاغِيتِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَاحْلِفُوا بِاللَّهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ:" وَاحْلِفُوا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ أَنْ تَحْلِفُوا بِهِ. وَلَا تَحْلِفُوا بِحَلِفِ الشَّيْطَانِ".
وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ:" وَاحْلِفُوا بِاللَّهِ، فَإِنَّهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ أَنْ تَحْلِفُوا بِهِ. وَلَا تَحْلِفُوا بِحَلِفِ الشَّيْطَانِ".
وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ ضَعِيفٌ.
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”بتوں کے نام پر حلف نہ اٹھاؤ، اپنے باپ دادا کے نام پر حلف نہ اٹھاؤ، اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ“۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ، کیونکہ اسے یہ بات پسند ہے کہ تم لوگ اس کے نام پر حلف اٹھاؤ، اور تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ“۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں، اور امام بزار کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6896]
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں: ”اللہ کے نام پر حلف اٹھاؤ، کیونکہ اسے یہ بات پسند ہے کہ تم لوگ اس کے نام پر حلف اٹھاؤ، اور تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ“۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں، اور امام بزار کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6896]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1343)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 6897
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَهُوَ كَمَا قَالَ. إِنْ قَالَ: إِنِّي يَهُودِيٌّ فَهُوَ يَهُودِيٌّ. وَإِنْ قَالَ: إِنِّي نَصْرَانِيٌّ فَهُوَ نَصْرَانِيٌّ. وَإِنْ قَالَ: إِنِّي مَجُوسِيٌّ فَهُوَ مَجُوسِيٌّ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ عُبَيْسُ بْنُ مَيْمُونٍ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص قسم اٹھاتے ہوئے حلف اٹھاتا ہے، تو وہ ویسا ہی ہو جاتا ہے، جیسا اس نے کہا: ہو، اگر اس نے یہ کہا: ہو: کہ میں یہودی ہو جاؤں، تو وہ یہودی ہو گا، اور اگر اس نے یہ کہا: ہو کہ میں عیسائی ہوں تو وہ عیسائی ہو گا اور اگر اس نے یہ کہا: ہو کہ میں مجوسی ہوں تو وہ مجوسی ہو گا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6897]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبیس بن میمون ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6897]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلي فى المسند (6006)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 6898
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - قَالَ: جَاءَ يَهُودِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يَعْدِلُونَ. فَقَالَ:" كَيْفَ يَعْدِلُونَ؟". قَالَ: يَقُولُونَ: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشِئْتَ. قَالَ:" قُولُوا: ثُمَّ شِئْتَ".
وَقَالَ أَيْضًا: نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يُشْرِكُونَ. قَالَ: يَقُولُونَ بِحَقِّ فُلَانٍ وَبِحَيَاةِ فُلَانٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ.
وَقَالَ أَيْضًا: نِعْمَ الْأُمَّةُ أُمَّتُكَ لَوْلَا أَنَّهُمْ يُشْرِكُونَ. قَالَ: يَقُولُونَ بِحَقِّ فُلَانٍ وَبِحَيَاةِ فُلَانٍ. فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَانَ حَالِفًا فَلَا يَحْلِفْ إِلَّا بِاللَّهِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ الْقَاسِمِ، وَهُوَ كَذَّابٌ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک یہودی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بولا: آپ کی امت اچھی امت ہے اگر وہ لوگ برابر نہ کریں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ لوگ کیسے برابر کرتے ہیں؟ اس نے بتایا وہ لوگ یہ کہتے ہیں: جو اللہ نے چاہا اور جو آپ نے چاہا، راوی کہتے ہیں: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ یہ کہو: ”پھر آپ نے چاہا“۔ اس نے یہ بھی کہا: آپ کی امت اچھی امت ہے، اگر وہ لوگ شرک نہ کریں، اس نے بتایا کہ وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں کے حق کی وجہ سے اور فلاں کی زندگی کی وجہ سے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے حلف اٹھانا ہو، وہ صرف اللہ تعالیٰ کے نام کا حلف اٹھائے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6898]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبید بن قاسم ہے اور وہ کذاب اور متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6898]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10468)»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 6899
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَأَنْ أَحْلِفَ بِاللَّهِ كِاذِبًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَحْلِفَ بِغَيْرِهِ وَأَنَا صَادِقٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اللہ کے نام پر جھوٹی قسم اٹھا لوں، یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہو گا کہ میں اس کے غیر کے نام پر سچی قسم اٹھا لوں۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6899]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6899]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8902)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 6900
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: لَا تَحْلِفُوا بِحَلِفِ الشَّيْطَانِ أَنْ يَقُولَ أَحَدُكُمْ: وَعِزَّةِ اللَّهِ. وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ: [ اللَّهُ ] رَبُّ الْعِزَّةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْمَسْعُودِيُّ، وَهُوَ ثِقَةٌ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: تم شیطان کے حلف کے مطابق حلف نہ اٹھاؤ کہ تم میں سے کوئی ایک شخص یہ کہے: اللہ کی عزت کی قسم ہے، بلکہ تم اس طرح کہو جس طرح اللہ نے فرمایا: ہے: اللہ رب العزت۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6900]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن مسعودی ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ اختلاط کا شکار ہو گیا تھا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 6900]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8890)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف