🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

8. بَابُ الْعِتْقِ وَالْإِعَانَةِ فِيهِ .
غلام آزاد کرنا اور اس بارے میں مدد کرنا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7242
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي عَمْلًا يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ. قَالَ: لَئِنْ كُنْتَ أَقْصَرْتَ الْخُطْبَةَ لَقَدْ أَعْرَضْتَ الْمَسْأَلَةَ: اعْتِقِ النَّسَمَةَ وَفُكَّ الرَّقَبَةَ". قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَتَا بِوَاحِدَةٍ؟ قَالَ:" لَا إِنَّ عِتْقَ النَّسَمَةِ أَنْ تَفَرَّدَ بِعِتْقِهَا. وَفَكُّ الرَّقَبَةِ أَنْ تُعِينَ فِي عِتْقِهَا. وَالْمِنْحَةُ الْوَكُوفُ وَالْفَيْءُ عَلَى ذِي الرَّحِمِ الظَّالِمِ. فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَأَطْعِمِ الْجَائِعَ وَاسْقِ الظَّمْآنَ وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، فَإِنْ لَمْ تُطِقْ ذَلِكَ فَكُفَّ لِسَانَكَ إِلَّا مِنْ خَيْرٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے کسی ایسے عمل کی تعلیم دیجئے جو مجھے جنت میں داخل کروا دے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے الفاظ مختصر استعمال کیے ہیں اور بڑا مسئلہ دریافت کیا ہے، تم جان کو آزاد کرواؤ، اور گردن کو چھڑواؤ، اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! جان کو آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ جب تم اسے آزاد کرنے میں منفرد ہو، اور گردن کو چھٹروانے سے مراد یہ ہے، کہ تم اس کو آزاد کروانے میں اس کی مدد کرو، اور ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو (یا ٹپکنے والا ہو، یعنی دودھ دینا) اور ظلم کرنے والے رشتے کو کچھ دینا، اگر تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، تو بھوکے کو کھانا کھلاؤ، پیاسے کو پلاؤ، نیکی کا حکم کرو اور برائی سے منع کرو، اور اگر تم اس کی بھی طاقت نہیں رکھتے، تو تم اپنی زبان کو بھلائی کے علاوہ ہر چیز سے روک کے رکھو!۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 7242]

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7243
وَعَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَكَرَ الصَّدَقَةَ فَقَالَ:" مِنَ الصَّدَقَةِ عِتْقُ الرَّقَبَةِ وَفَكُّهَا". فَقَالَ رَجُلٌ: أَلَيْسَتَا وَاحِدَةً؟ قَالَ:" لَا. عِتْقُهَا أَنْ تُعْتِقَهَا. وَفَكُّهَا أَنْ تُعِينَ فِيهَا". قَالَ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ:" فَمِنْحَةٌ وَكُوفٍ أَوْ عَطْفٌ عَلَى ذِي الرَّحِمِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُوسَى ؛ قَالَ الْأَزْدِيُّ: مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.
سیدنا ابوموسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو صدقہ کا ذکر کرتے ہوئے سنا: آپ نے ارشاد فرمایا: صدقہ کرنے میں یہ بات شامل ہے کہ گردن کو آزاد کیا جائے اور اُسے چھڑوایا جائے، ایک شخص نے عرض کی: کیا یہ دونوں ایک ہی نہیں ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں! اسے آزاد کرنے سے مراد یہ ہے کہ تم اسے آزاد کر دو، اور اسے چھڑوانے سے مراد یہ ہے کہ تم اس کے آزاد کرنے میں مدد کرو، اس نے عرض کی: اگر میں یہ نہ کروں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ایسا عطیہ جو برسنے والا ہو (یا ٹپکنے والا ہو، یعنی دودھ دینا) اور رشتہ دار پر مہربانی کرنا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن موسیٰ ہے، ازدی کہتے ہیں: یہ منکر الحدیث ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 7243]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الأوسط (1490)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7244
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَعَانَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ (أَوْ غَارِمًا فِي عُسْرَتِهِ) أَوْ مُكَاتِبًا فِي رَقَبَتِهِ أَظَلَّهُ اللَّهُ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ. وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ حَدِيثُهُمْ حَسَنٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے شخص کی مدد کرتا ہے، یا کسی تنگدست مقروض کی مدد کرتا ہے، یا مکاتب غلام کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اُسے اس دن اپنا سایہ نصیب کرے گا، جس دن اُس کے سائے کے علاوہ اور کوئی سایہ نہیں ہو گا۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن سہل بن حنیف ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ایسے ہیں، کہ ان کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 7244]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (487/3)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7245
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلًا أَسْلَمَ فَلَمَّا هَاجَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَشِيَ أَهْلَهُ أَنْ يَتْبَعَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَيَّدُوهُ، فَكَتَبَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ بِإِسْلَامِي فَسَيِّرْنِي أَوْ خَلِّصْنِي فَبَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةَ نَفَرٍ عَلَى بَعِيرٍ وَقَالَ:" لَعَلَّكُمْ تَجِدُونَ فِي دَارِ مَنْ يُعِينُكُمْ عَلَيْهِ". فَأَعْتَقَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کی، تو اس کے اہل خانہ کو یہ اندیشہ ہوا کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلا جائے گا، تو انہوں نے اس کو باندھ دیا، اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا کہ آپ میرے اسلام کے بارے میں جانتے ہیں، تو آپ مجھے خلاصی دلوا دیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چھ افراد ایک اونٹ پر بھیجے، اور فرمایا: تم اسے اس شخص کے گھر میں پاؤ گے، جو تمہاری اس کے بارے میں مدد کرے گا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے آزاد قرار دیا۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 7245]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1397)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں