مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ " .
نکاح کی ترغیب دینا اور اس بارے میں جو منقول ہے
حدیث نمبر: 7315
وَعَنْ أَبِي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" يَا شَبَابَ قُرَيْشٍ لَا تَزْنُوا، مَنْ سَلِمَ لَهُ شَبَابُهُ فَلَهُ الْجَنَّةُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَإِسْنَادُهُ مُنْقَطِعٌ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُ.
سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے قریش کے نوجوانو! تم زنا، نہ کرو، جس شخص کی جوانی سلامت رہے گی، اُسے جنت نصیب ہو گی“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7315]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کی سند منقطع ہے اور اس کی سند میں ایسا راوی ہے، جس سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7315]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابو يعلى فى السند (1427)»
الحكم على الحديث: إسناده منقطع
حدیث نمبر: 7316
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَيَّمَا شَابٍّ تَزَوَّجَ فِي حَدَاثَةِ سِنِّهِ عَجَّ شَيْطَانُهُ: يَا وَيْلَهْ يَا وَيْلَهْ عَصَمَ مِنِّي دِينَهُ".
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ خَالِدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَخْزُومِيُّ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو نوجوان کم عمری میں شادی کر لیتا ہے، تو اُس کا شیطان چیخ کر یہ کہتا ہے: ہائے بربادی، ہائے بربادی، اس نے اپنے دین کو مجھ سے محفوظ کر لیا“۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7316]
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خالد بن اسماعیل مخزومی ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7316]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابويعلى فى المسند (2041)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 7317
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" مَا أَصَبْنَا مِنْ دُنْيَاكُمْ إِلَّا نِسَاءَكُمْ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ زَكَرِيَّا بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم نے تمہاری دنیا میں سے، صرف خواتین کو حاصل کیا ہے“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7317]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی زکریا بن ابراہیم بن عبداللہ بن مطیع ہے، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7317]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (3320)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 7318
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَمْسٌ مِنْ سُنَنِ الْمُرْسَلِينَ: الْحَيَاءُ وَالْحِلْمُ وَالْحِجَامَةُ وَالتَّعَطُّرُ وَالنِّكَاحُ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: وَاهٍ. وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَغَيْرَهُ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ الْخَطَمَيِّ فِي الْحِجَامَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ شَيْبَةَ ؛ قَالَ الذَّهَبِيُّ: وَاهٍ. وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ وَغَيْرَهُ.
قُلْتُ: وَيَأْتِي حَدِيثُ يَزِيدَ الْخَطَمَيِّ فِي الْحِجَامَةِ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پانچ چیزیں ”مرسلین“ کی سنت ہیں، حیاء، بردباری، پچھنے لگوانا، عطر لگانا اور نکاح کرنا“۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ ہے، امام ذہبی کہتے ہیں: یہ واہی ہے۔ انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث، اور ایک اور حدیث نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: آگے چل کر یزید خطمی کی نقل کردہ حدیث آئے گی، جو پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7318]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن شیبہ ہے، امام ذہبی کہتے ہیں: یہ واہی ہے۔ انہوں نے اس کے حوالے سے یہ حدیث، اور ایک اور حدیث نقل کی ہے۔
(علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں: آگے چل کر یزید خطمی کی نقل کردہ حدیث آئے گی، جو پچھنے لگوانے کے بارے میں ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7318]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (11445)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف