مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابٌ فِيمَا أُحِلَّ مِنْ نِكَاحِ النِّسَاءِ .
خواتین کے ساتھ کون سے نکاح کو حلال قرار دیا گیا ہے؟
حدیث نمبر: 7421
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" أَحَلَّ اللَّهُ مِنَ النِّسَاءِ ثَلَاثًا: نِكَاحٌ بِمُوَارَثَةٍ، وَنِكَاحٌ بِغَيْرِ مُوَارَثَةٍ، وَمِلْكُ الْيَمِينِ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ الْحُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ كَلَامٌ.
سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ نے خواتین کے ساتھ تین قسم کے نکاح کو حلال قرار دیا ہے، وہ نکاح جو موارثت کے طور پر ہو، اور وہ نکاح جو بغیر موارثت کے ہو اور ملک یمین“۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن زید ہے، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7421]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس کی سند میں ایک راوی حسین بن زید ہے، جس کی توثیق کی گئی ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7421]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف