مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ الِاسْتِئْمَارِ .
مرضی معلوم کرنا
حدیث نمبر: 7471
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَدَّ نِكَاحَ ثَيِّبٍ وَبِكْرٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا كَارِهَتَيْنِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوثَى، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جُوثَى، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ثیبہ اور ایک کنواری لڑکی کے نکاح کو مسترد کر دیا تھا، ان کے باپ نے ان دونوں کی شادیاں کروائیں تھیں، اور زبردستی کروائیں تھیں۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن جوثی ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7471]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن ابراہیم بن جوثی ہے، میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7471]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (138/17)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7471M
وَعَنِ الْعُرْسِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" آمِرُوا النِّسَاءَ تُعْرِبُ الثَّيِّبُ عَنْ نَفْسِهَا وَإِذْنُ الْبِكْرِ صَمْتُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: زَادَ سُفْيَانُ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ.
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَلَمْ يُجَاوِزْ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ. قُلْتُ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَقَالَ: زَادَ سُفْيَانُ فِي الْإِسْنَادِ الْعُرْسَ.
وَرَوَاهُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، وَلَمْ يُجَاوِزْ عَدِيَّ بْنَ عَدِيٍّ. قُلْتُ: وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا العرس (بن عمیرہ) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «عورتوں سے (ان کے نکاح کے بارے میں) اجازت و مشورہ لیا کرو ؛ چنانچہ ثیب (بیوہ یا مطلقہ عورت) اپنے نفس کے بارے میں خود کھل کر بات کرے گی (اپنی زبان سے صراحت کرے گی)، اور دوشیزہ (کنواری لڑکی) کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے» ۔
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ سفیان نے اس کی سند میں العرس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کیا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد نے اسے ابن ابی حسین سے روایت کیا اور انہوں نے اس سند کو عدی بن عدی پر ہی روک دیا یعنی مرسل رکھا۔ میں [حافظ ہیثمی رحمہ اللہ] کہتا ہوں: اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7471M]
اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور فرمایا کہ سفیان نے اس کی سند میں العرس رضی اللہ عنہ کا اضافہ کیا ہے۔ جبکہ لیث بن سعد نے اسے ابن ابی حسین سے روایت کیا اور انہوں نے اس سند کو عدی بن عدی پر ہی روک دیا یعنی مرسل رکھا۔ میں [حافظ ہیثمی رحمہ اللہ] کہتا ہوں: اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7471M]
حدیث نمبر: 7472
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ جَارِيَةً زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَأَرَادَتْ أَنْ تُزَوَّجَ رَجُلًا آخَرَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَنَزَعَهَا مِنَ الَّذِي زَوَّجَهَا أَبُوهَا وَزَوَّجَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الَّذِي أَرَادَتْ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک لڑکی کی شادی اس کے باپ نے کر دی، وہ لڑکی کسی اور کے ساتھ شادی کرنا چاہتی تھی، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئی، اور یہ چیز آپ کے سامنے ذکر کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اس شخص سے علیحدگی کروا دی، جس کے ساتھ اس کے باپ نے اس کی شادی کی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کی شادی اس شخص کے ساتھ کروا دی، جس کے ساتھ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7472]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7472]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (256/23)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7473
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ يَزِيدَ بْنِ جَارِيَةَ قَالَا: أَنْكَحَ حِذَامُ ابْنَتَهُ - وَهِيَ كَارِهَةٌ - رَجُلًا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَأَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اور سیدنا مجمع بن یزید بن جاریہ رضی اللہ عنہ یہ دونوں حضرات بیان کرتے ہیں: سیدنا حذام رضی اللہ عنہ نے اپنی صاحبزادی کی شادی زبردستی ایک شخص کے ساتھ کر دی، وہ صاحبزادی ثیبہ تھیں، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور یہ بات آپ کے سامنے ذکر کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کو کالعدم قرار دیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7473]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7473]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح