🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

70. بَابٌ حَقُّ الْمَرْأَةِ عَلَى الزَّوْجِ .
شوہر پر عورت کے حق کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7619
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِنِسَائِهِمْ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ وُثِّقَ، وَفِيهِ ضَعْفٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیویوں کے حق میں زیادہ بہتر ہو۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عمرو بن علقمہ ہے جس کی توثیق کی گئی ہے، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7619]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1482) اخرجه ابو يعلى فى المسند (5926)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7620
وَعَنِ الزُّبَيْرِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" أَلَا عَسَى أَحَدُكُمْ أَنْ يَضْرِبَ امْرَأَتَهُ ضَرْبَ الْأَمَةِ أَلَا خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ".
رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ زَكَرِيَّا بْنِ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ الضَّرِيرِ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کو یوں مارتا ہے جس طرح کنیز کو مارا جاتا ہے خبردار! تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد ذکریا بن یحیی بن ایوب ضریر سے نقل کی ہے۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7620]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1484)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7621
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَذِنَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ فَسَمِعَ مِنَ اللَّيْلِ صَوْتًا عَالِيًا فَقَالَ:" إِنِّي لَأَسْمَعُ صَوْتًا" فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَذِنْتَ فِي ضَرْبِ النِّسَاءِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي".
قُلْتُ: رَوَى ابْنُ مَاجَهْ بَعْضَهُ.
رَوَاهُ الْبَزَّارُ، وَفِيهِ جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، وَهُوَ مَسْتُورٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَقَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ لِجَعْفَرٍ هَذَا وَسَكَتَ عَنْهُ فَحَدِيثُهُ حَسَنٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی آپ نے رات کے وقت بلند آوازیں سنیں، تو ارشاد فرمایا: میں نے آوازیں سنی تھیں لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ نے خواتین کی پٹائی کرنے کی اجازت دی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو اور میں اپنی بیویوں کے حق میں سب سے زیادہ بہتر ہوں۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں امام ابن ماجہ نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی جعفر بن یحیی بن ثوبان ہے وہ مستور ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں امام ابوداؤد نے جعفر نامی اس راوی کے حوالے سے روایت نقل کی ہے۔ اور اس کے بارے میں خاموشی اختیار کی ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7621]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1483)»

الحكم على الحديث: إسنادہ حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7622
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ: رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ"، رَوَاهُ الْبَزَّارُ، عَنْ شَيْخِهِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں زیادہ بہتر وہ ہے جو اپنی بیوی کے حق میں زیادہ بہتر ہو۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عثمان بن عمر سے نقل کی ہے۔ میں اس سے واقف نہیں ہوں۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7622]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1481)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7623
وَعَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ قَالَ: خَرَجْتُ إِلَى الرَّبَذَةِ فَإِذَا أَبُو ذَرٍّ قَدْ جَاءَ فَكَلَّمَ امْرَأَتَهُ فِي شَيْءٍ فَكَأَنَّهَا رَدَّتْ عَلَيْهِ وَعَادَ فَعَادَتْ فَقَالَ: مَا تَزِيدِينَ عَلَيَّ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَثَنَيْتَهَا انْكَسَرَتْ، وَفِيهَا بَلْغَةٌ وَأَوَدٌ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا نُعَيْمَ بْنَ قَعْنَبٍ، وَهُوَ ثِقَةٌ.
نعیم بن قعنب بیان کرتے ہیں: میں ربذہ کی طرف گیا وہاں سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ موجود تھے وہ تشریف لائے انہوں نے کسی چیز کے بارے میں اپنی بیوی کے ساتھ بات چیت کی ان کی بیوی نے انہیں پلٹ کر جواب دیا انہوں نے اپنی بات دہرائی، تو اس عورت نے بھی جواب دہرا دیا تو سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے کہا: تم خواتین اس چیز سے بڑھ کے نہیں ہو جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے: عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے، تو وہ ٹوٹ جائے گی، جبکہ اس میں کفایت (یعنی بنیادی ضرورت کی تکمیل) بھی ہو گی اور ٹیڑھا پن بھی ہو گا۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں، صرف نعیم بن قعنب کا معاملہ مختلف ہے، اور وہ ثقہ ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7623]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1478) اخرجه احمد فى المسند (164/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7624
وَعَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ:" الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ أَقَمْتَهَا كَسَرْتَهَا وَهِيَ يُسْتَمْتَعُ بِهَا عَلَى عِوَجٍ".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالْبَزَّارُ، وَرِجَالُ الْبَزَّارِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: عورت پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے، تو اسے توڑ دو گے اس کے ٹیڑھے پن سمیت اس سے نفع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اور امام بزار نے نقل کی ہے۔ امام بزار کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7624]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1479) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (972) اخرجه احمد فى المسند (279/6)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7625
وَعَنْ رَجُلٍ قَالَ: سَمِعْتُ سَمُرَةَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرِ الْبَصْرَةِ، وَهُوَ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ:" إِنَّ الْمَرْأَةَ خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ، وَإِنَّكَ إِنْ تُرِدْ إِقَامَةَ الضِّلَعِ تَكْسِرْهُ فَدَارِهَا تَعِشْ بِهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَالْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ وَسُمِّي الرَّجُلُ أَبَا رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيَّ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ، وَالْأَوْسَطِ، وَفِي إِسْنَادِ أَحْمَدَ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مَسَاتِيرُ وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْ.
ایک صاحب بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ کو بصرہ میں خطبہ دینے کے دوران یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا وہ کہتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے اگر تم پہلی کو سیدھا کرنا چاہو گے تو اسے، توڑ دو گے، تو تم اس کا خیال رکھو، (اسی طرح) تم اس کے ساتھ رہ پاؤ گے۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے۔ ان میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ان میں سے ایک کا نام ابورجاء عطاردی بیان کیا گیا ہے۔ امام طبرانی نے اسے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کیا ہے۔ امام أحمد کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہیں اور ایسے راوی جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7625]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (1477 و 1476) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (6992) اخرجه احمد في المسند (8/5)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7626
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" لَا تَسْتَقِيمُ لَكَ الْمَرْأَةُ عَلَى خَلِيقَةٍ وَاحِدَةٍ إِنَّمَا هِيَ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهَا تَكْسِرْهَا، وَإِنْ تَتْرُكْهَا تَسْتَمْتِعْ بِهَا، وَفِيهَا عِوَجٌ".
وَفِي رِوَايَةٍ:" وَكَسْرُهَا طَلَاقُهَا".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَفِيهِ سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَهُشَيْمٌ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت تمہارے لئے کسی صورت میں سیدھی نہیں ہو سکتی یہ پسلی کی مانند ہے اگر تم اسے ٹھیک کرنا چاہو گے، تو تم اسے، توڑ دو گے، اور اگر تم اسے یوں چھوڑ دو گے، تو اس کے ذریعے نفع حاصل کرو گے، جب کہ اس کے اندر ٹیڑھا پن موجود ہو۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: اسے توڑنے سے مراد اسے طلاق دینا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی سوید بن عبدالعزیز ہے، جسے دحیم اور ہشیم نے ثقہ قرار دیا ہے جمہور نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7626]

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7627
وَعَنْ شَيْخٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: جَاءَ جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يَشْكُو إِلَى عُمَرَ مَا يَلْقَى مِنَ النِّسَاءِ فَقَالَ عُمَرُ: إِنَّا لَنَجِدُ ذَلِكَ حَتَّى إِنِّي لَأُرِيدُ الْحَاجَةَ تَقُولُ: تَذْهَبْ إِلَى فَتَيَاتِ بَنِي فُلَانٍ تَنْظُرْ إِلَيْهِنَّ. فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عِنْدَ ذَلِكَ: أَمَا بَلَغَكَ أَنَّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ شَكَا إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ذَرَأَ خُلُقِ سَارَةَ فَقِيلَ لَهُ: إِنَّمَا خُلِقَتْ مِنْ ضِلَعٍ فَالْبَسْهَا عَلَى مَا كَانَ فِيهَا مَا لَمْ تَرَ عَلَيْهَا خِزْيَةً فِي دِينِهَا فَقَالَ عُمَرُ: لَقَدْ حُشِيَ بَيْنَ أَضْلَاعِكَ عِلْمٌ كَثِيرٌ..
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ رَاوِيَانِ لَمْ يُسَمَّيَا، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
ایک بزرگ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں سیدنا جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی کہ خواتین کی طرف سے انہیں (ناگوار صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے) تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ صورت حال تو ہم بھی پاتے ہیں بعض اوقات میں کسی کام کے سلسلے میں نکلنے لگتا ہوں تو وہ عورت (یعنی میری بیوی) یہ کہتی ہے: آپ بنوفلاں کی لڑکیاں دیکھنے کے لئے جا رہے ہیں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ان سے کہا: کیا آپ تک یہ بات نہیں پہنچی ہے کہ سیدنا ابراہیم نے اللہ تعالیٰ سے سیدہ سارہ رضی اللہ عنہا کے مزاج کی تیزی کی شکایت کی، تو ان سے کہا: گیا کہ اسے پسلی سے پیدا کیا گیا ہے، تو تم اس کی اس چیز سمیت اس کے ساتھ گزارہ کرو جب تک اس کے دین کے بارے میں تمہیں کوئی غلط چیز نظر نہیں آتی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تمہاری پسلیوں کے درمیان بہت زیادہ علم بھرا گیا ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں دو راوی ایسے ہیں جن کے نام بیان نہیں کیے گئے ہیں۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7627]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (9685)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں