مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ الْحَضَانَةِ .
پرورش کا بیان
حدیث نمبر: 7700
عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْخَالَةُ وَالِدَةٌ".
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَالثَّوْرِيُّ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خالہ، والدہ ہوتی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7700]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے، جسے شعبہ اور ثوری نے ثقہ قرار دیا ہے، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7700]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (34/17)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
حدیث نمبر: 7701
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْنِي هَذَا كَانَ بَطْنِي لَهُ وِعَاءً وَحِجْرِي لَهُ حِوَاءً وَثَدْيِي لَهُ سِقَاءً وَزَعَمَ أَبُوهُ أَنَّهُ يَنْزِعُهُ مِنِّي؟ قَالَ:" أَنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحِي".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرا یہ بیٹا میرا پیٹ اس کے لئے حفاظت کی جگہ تھی میری گود اس کے لئے آرام کی جگہ تھی میری چھاتی اس کے لئے سیرابی کا باعث تھی، اور اب اس کا باپ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اسے مجھ سے جدا کر دے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اس کی زیادہ حق دار ہو جب تک تم (دوسری) شادی نہیں کرتی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7701]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7701]
تخریج الحدیث: «اخرجه احمد فى المسند (6707)»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
حدیث نمبر: 7702
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَكَّةَ خَرَجَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ بِابْنَةِ حَمْزَةَ فَاخْتَصَمَ فِيهَا عَلِيٌّ وَجَعْفَرٌ وَزَيْدٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَلِيٌّ: ابْنَةُ عَمِّي، وَأَنَا أَخْرَجْتُهَا وَقَالَ جَعْفَرُ: ابْنَةُ عَمِّي وَخَالَتُهَا عِنْدِي وَقَالَ زَيْدٌ: ابْنَةُ أَخِي، وَكَانَ زَيْدٌ مُؤَاخِيًا لِحَمْزَةَ آخَى بَيْنَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِزَيْدٍ:" أَنْتَ مَوْلَايَ وَمَوْلَاهَا" وَقَالَ لِعَلِيٍّ:" أَنْتَ أَخِي وَصَاحِبِي" وَقَالَ لِجَعْفَرٍ:" أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَهِيَ إِلَى خَالَتِهَا".
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
رَوَاهُ أَحْمَدُ، وَأَبُو يَعْلَى، وَفِيهِ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے نکلے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی صاحبزادی کو لے کے آئے اس بچی کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید رضی اللہ عنہ نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور میں اسے لے کے آیا ہوں سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے چچا کی بیٹی ہے، اور اس کی خالہ میری بیوی ہے سیدنا زید رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا تھا کہ یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے (راوی بیان کرتے ہیں:) سیدنا زید رضی اللہ عنہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے بنے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے اور اس لڑکی کے ساتھ نسبت والاء رکھتے ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: تم میرے بھائی اور میرے ساتھی ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جعفر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ظاہری شکل و صورت اور اخلاق میں میرے ساتھ مشابہت رکھتے ہو یہ بچی اس کی خالہ کو ملے گی۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7702]
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے۔ اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی حجاج بن ارطاۃ ہے، اور وہ مدلس ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 7702]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابويعلى فى المسند (2379) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4661) اخرجه احمد فى المسند (2040)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعیف