مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
19. بَابُ تَسْلِيمِ الْحَجَرِ وَالشَّجَرِ عَلَيْهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
پتھروں اور درختوں کا نبی اکرم ﷺ کو سلام کرنا
حدیث نمبر: 13955
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَمَّا أُوحِيَ إِلَيَّ - أَوْ نُبِّئْتُ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا جَعَلْتُ لَا أَمُرُّ بِحَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ،"، رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب میری طرف وحی کی گئی (راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں:) جب مجھے نبی بنایا گیا (راوی کو شک ہے، یا اس کی مانند کوئی اور کلمہ ہے) تو ”میں“ جس بھی پتھر، یا درخت کے پاس سے گزرتا تھا، تو وہ مجھے کہتا تھا: یا رسول اللہ! آپ کو سلام ہو۔“
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13955]
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عبداللہ بن شبیب کے حوالے سے نقل کی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13955]
تخریج الحدیث: «اخرجه البزار فى المسند (2373)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 13956
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَعَلَ لَا يَمُرُّ عَلَى حَجَرٍ وَلَا شَجَرٍ إِلَّا سَلَّمَ عَلَيْهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ، وَالتَّابِعِيُّ أَبُو عِمَارَةَ الْحَيَوَانِيُّ لَمْ أَعْرِفْهُ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جس بھی درخت، یا پتھر کے پاس سے گزرتے تھے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کرتا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس میں تابعی ابوعمارہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13956]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اس میں تابعی ابوعمارہ ہے، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 13956]
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف