مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
47. بَابُ حَبْسِ الشَّمْسِ لَهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سورج کا نبی اکرم ﷺ کے لئے رک جانا
حدیث نمبر: 14095
عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ الشَّمْسَ فَتَأَخَّرَتْ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کو حکم دیا، تو وہ دن کی ایک گھڑی کے لئے رک گیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14095]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے، اور اس کی سند حسن ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14095]
الحكم على الحديث: إسنادہ حسن۔
حدیث نمبر: 14096
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَمِيسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَّى الظُّهْرَ بِالصَّهْبَاءِ ثُمَّ أَرْسَلَ عَلِيًّا فِي حَاجَةٍ، فَرَجَعَ وَقَدْ صَلَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْعَصْرَ، فَوَضَعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَأْسَهُ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَنَامَ، فَلَمْ يُحَرِّكْهُ حَتَّى غَابَتِ الشَّمْسُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ إِنَّ عَبْدَكَ عَلِيًّا احْتَبَسَ بِنَفْسِهِ عَلَى نَبِيِّهِ فَرُدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ". قَالَتْ أَسْمَاءُ: فَطَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ حَتَّى وَقَفَتْ عَلَى الْجِبَالِ وَعَلَى الْأَرْضِ، وَقَامَ عَلِيٌّ فَتَوَضَّأَ وَصَلَّى الْعَصْرَ، ثُمَّ غَابَتْ فِي ذَلِكَ بِالصَّهْبَاءِ.
سیدہ اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”صہباء“ کے مقام پر ظہر کی نماز ادا کی، پھر آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی کام کے سلسلے میں بھیج دیا، جب وہ واپس آئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر چکے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں سر رکھا اور سو گئے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے حرکت نہیں کی، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تیرا بندہ علی، اس نے اپنے آپ کو اپنے نبی کے لئے روک کے رکھا ہوا تھا، تو اس کے لئے سورج کو لوٹا دے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: تو سورج دوبارہ طلوع ہو گیا، یہاں تک کہ وہ پہاڑوں اور زمین پر آ کے ٹھہر گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے وضو کیا، نماز ادا کی، پھر اس کے بعد سورج صہباء میں غروب ہوا۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14096]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (144/24)»
الحكم على الحديث: موضوع
حدیث نمبر: 14097
وَفِي رِوَايَةٍ عَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ يَكَادُ يُغْشَى عَلَيْهِ، فَأَنْزَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا وَهُوَ فِي حِجْرِ عَلِيٍّ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:" صَلَّيْتَ الْعَصْرَ". قَالَ: لَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَدَعَا اللَّهُ فَرَدَّ عَلَيْهِ الشَّمْسَ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ. قَالَتْ: فَرَأَيْتُ الشَّمْسَ طَلَعَتْ بَعْدَمَا غَابَتْ حِينَ رُدَّتْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ. رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ، وَرِجَالُ أَحَدِهَا رِجَالُ الصَّحِيحِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَسَنٍ وَهُوَ ثِقَةٌ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ، وَفَاطِمَةُ بِنْتُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ لَمْ أَعْرِفْهَا.
ایک روایت میں، جو اس عورت سے منقول ہے، وہ یہ ہے: ”وہ بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تھی، تو آپ کی یہ کیفیت ہو جاتی تھی، جیسے آپ پر بے ہوشی طاری ہو جائے گی، ایک دن آپ پر وحی نازل ہو رہی تھی، آپ اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی گود میں (سر رکھے ہوئے) تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تم نے عصر پڑھ لی ہے؟ انہوں نے عرض کی: جی نہیں! یا رسول اللہ! تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالٰی سے دعا کی کہ اے اللہ! تو علی کے لئے سورج کو لوٹا دے، تاکہ وہ عصر پڑھ لے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں نے سورج کو دیکھا کہ وہ غروب ہو جانے کے بعد پھر طلوع ہو گیا تھا، یہاں تک کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عصر کی نماز ادا کر لی۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہیں، ان میں سے ایک کے رجال ”صحیح“ کے رجال ہیں، انہوں نے اسے ابراہیم بن حسن کے حوالے سے نقل کیا ہے، اور وہ ثقہ ہے، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے، اور فاطمہ بنت علی بن ابوطالب نامی خاتون سے میں واقف نہیں ہوں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّةِ/حدیث: 14097]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (147/24)»
الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف