🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2. بَابٌ .
بلا عنوان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14301
عَنْ مُعَاوِيَةَ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، فَرَأَيْتُ أَسْمَاءَ قَائِمَةً عَلَى رَأْسِهِ بَيْضَاءَ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ أَبْيَضَ نَحِيفًا، فَحَمَلَنِي وَأَبِي عَلَى فَرَسَيْنِ، ثُمَّ عُرِضْنَا عَلَيْهِ وَأَجَازَنَا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو میں نے دیکھا کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا ان کے سرہانے کھڑی ہوئی ہیں۔ وہ سفید رنگت کی خاتون تھیں۔ میں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ بھی سفید رنگت کے کمزور جسم کے مالک شخص تھے۔ انہوں نے مجھے اور میرے والد کو دو گھوڑے سواری کے لئے دیے پھر ہم نے ان کے سامنے پیشکش کی، تو انہوں نے ہمیں اجازت دی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14301]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (25)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14302
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ السَّلَاسِلِ، وَكَأَنَّ لِحْيَتَهُ لَهَبُ الْعَرْفَجِ، عَلَى نَاقَةٍ لَهُ أَدَمًا أَبْيَضَ نَحِيفًا.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَلَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الَّذِي مِنْ بَنِي أَسَدٍ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ.
بنو اسد سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں: غزوہ ذات سلاسل کے موقع پر میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا، ان کی داڑھی عرفج نامی درخت کی طرح سرخ تھی، وہ اپنی اونٹنی پر سوار تھے، وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے شخص تھے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں، جس کا تعلق بنو اسد سے ہے، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14302]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14303
وَعَنْ عَائِشَةَ: أَنَّهَا رَأَتْ رَجُلًا مَارًّا وَهِيَ فِي هَوْدَجِهَا، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَجُلًا أَشْبَهَ مِنْ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا، فَقِيلَ لَهَا: صِفِي لَنَا أَبَا بَكْرٍ. فَقَالَتْ: كَانَ رَجُلًا أَبْيَضَ نَحِيفًا، خَفِيفَ الْعَارِضَيْنِ، أَحْنًا لَا تَسْتَمْسِكُ إِزْرَتُهُ تَسْتَرْخِي عَنْ حِقْوَيْهِ، مَعْرُوقَ الْوَجْهِ، غَائِرَ الْعَيْنَيْنِ، نَاتِئَ الْجَبْهَةِ، عَارِيَ الْأَشَاجِعِ. هَذِهِ صِفَتُهُ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْوَاقِدَيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي الْخِضَابِ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ وہ اپنے ہودج میں موجود تھیں، انہوں نے ایک شخص کو گزرتے ہوئے دیکھا، تو یہ فرمایا: میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا، جو اس شخص سے زیادہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مشابہت رکھتا ہو، ان سے کہا: گیا: آپ ہمارے سامنے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کا حلیہ بیان کریں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ سفید رنگت کے مالک کمزور جسم والے ہلکے رخساروں والے ایک شخص تھے، ان کا تہبند ایک جگہ پر ٹکتا نہیں تھا، بلکہ ان کے پہلو سے ڈھلک جاتا تھا، ان کے چہرے پر گوشت کم تھا، آنکھیں اندر کی طرف دھنسی ہوئی تھیں، پیشانی ابھری ہوئی تھی اور انگلیوں کے جوڑوں پر گوشت کم تھا، یہ ان کا حلیہ ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے۔ اس کی سند میں ایک راوی واقدی ہے، اور وہ ضعیف ہے۔ اس سے پہلے خضاب لگانے سے متعلق باب میں کچھ احادیث گزر چکی ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14303]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (21)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14304
وَعَنْ رَافِعِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: مَرَّ بِي أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوٍ أَوْ حَجٍّ فَتَأَمَّلْتُهُمْ، فَلَمْ أَرَ مِنْهُمْ أَحْسَنَ هَيْئَةً مِنْ أَبِي بَكْرٍ ; قَدْ جَلَّلَ عَلَيْهِ كِسَاءً مِنَ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ.
قُلْتُ: فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي كَرَاهِيَةِ الْإِمَارَةِ فِي الْخِلَافَةِ.
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
سیدنا رافع بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک جنگ میں یا شاید حج کے موقع پر (یہ شک راوی کو ہے) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ اصحاب میرے پاس سے گزرے، میں نے ان کا بغور جائزہ لیا، تو میں نے ان میں کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا، جو ظاہری اعتبار سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے زیادہ خوبصورت ہو، انہوں نے گرمی سردی سے بچنے والی چادر اپنے اوپر اوڑھی ہوئی تھی۔ (علامہ ہیثمی فرماتے ہیں:) میں یہ کہتا ہوں۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جو اس سے پہلے کتاب الخلافہ میں حکومت کے ناپسندیدہ ہونے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے، اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 14304]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4468)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں