مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
106. بَابٌ فِي أَوْلَادِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی اولاد امجاد کا تذکرہ
حدیث نمبر: 15243
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ خَدِيجَةَ وَلَدَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سِتَّةً: عَبْدَ اللَّهِ، وَالْقَاسِمَ، وَزَيْنَبَ، وَرُقَيَّةَ، وَأُمَّ كُلْثُومٍ، وَفَاطِمَةَ، وَوَلَدَتْ لَهُ مَارِيَةُ الْقِبْطِيَّةُ إِبْرَاهِيمَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ، وَفِيهِ أَبُو شَيْبَةَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چھ بچوں کو جنم دیا تھا۔ سیدنا عبداللہ، سیدنا قاسم، سیده زینب، سیدہ رقیہ، سیدہ ام کلثوم اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہم۔ سیده ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو جنم دیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15243]
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان ہے اور وہ متروک ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15243]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1486) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (12115)»
الحكم على الحديث: ضعیف جداً
حدیث نمبر: 15244
وَعَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ بَكَّارٍ قَالَ: وُلِدَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْقَاسِمُ، وَهُوَ أَكْبَرُ وَلَدِهِ، ثُمَّ زَيْنَبُ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ، وَكَانَ يُقَالُ لَهُ: الطَّيِّبُ، وَيُقَالُ لَهُ: الطَّاهِرُ، وُلِدَ بَعْدَ النُّبُوَّةِ، وَمَاتَ صَغِيرًا، ثُمَّ أُمُّ كُلْثُومٍ، ثُمَّ فَاطِمَةُ، ثُمَّ رُقَيَّةُ. هَكَذَا الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ. مَاتَ الْقَاسِمُ بِمَكَّةَ، ثُمَّ عَبْدُ اللَّهِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ.
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ کی پیدائش ہوئی جو آپ کی اولاد میں سب سے بڑے ہیں، پھر سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کی پیدائش ہوئی پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہوئی جنہیں طیب بھی کہا: جاتا ہے، اور انہیں طاہر بھی کہا: جاتا ہے، یہ اعلان نبوت کے بعد پیدا ہوئے تھے اور کمسنی میں انتقال کر گئے تھے، پھر سیدہ ام کلثوم رضی اللہ عنہا پھر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور پھر سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا پیدا ہوئیں، بچوں کی ترتیب یہی ہے، سیدنا قاسم رضی اللہ عنہ کا انتقال مکہ میں ہوا تھا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15244]
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15244]
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح