🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

115. بَابُ مَا جَاءَ فِي سَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -
نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15340
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، فَجَاءَ أَخُوهَا مِنَ الْحَجِّ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ فَجَعَلَ يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ التُّرَابَ، فَلَمَّا أَسْلَمَ قَالَ: إِنِّي لَسَفِيهٌ يَوْمَ أَحْثُو عَلَى رَأْسِي التُّرَابَ أَنْ تَزَوَّجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَقَدْ تَقَدَّمَتْ رِوَايَةُ أَحْمَدَ لَهُ فِي مَنَاقِبِ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا -.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی، ان کے بھائی عبد بن زمعہ حج کر کے آئے تو انہوں نے اپنے سر میں مٹی ڈالنا شروع کر دی، بعد میں جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو انہوں نے فرمایا: میں اس وقت بے وقوف تھا جب میں نے اپنے سر پر اس وقت مٹی ڈالی تھی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تھی۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں۔ اس سے پہلے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مناقب سے متعلق باب میں امام أحمد کی نقل کردہ ایک روایت گزر چکی ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15340]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15341
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ، وَكَانَتْ قَبْلَهُ تَحْتَ السَّكْرَانِ بْنِ عَمْرٍو أَخِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَهْدِيٍّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ.
سیدنا سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کر لی، وہ اس سے پہلے سکران بن عمرو کے نکاح میں تھیں جن کا تعلق بنو عامر بن لؤی سے تھا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن عبداللہ بن مہدی ہے اور وہ ضعیف ہے، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15341]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15342
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَابِطٍ قَالَ: أَرَادَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِرَاقَ سَوْدَةَ، فَدَعَا أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لِيُشْهِدَهُمَا عَلَى طَلَاقِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا لِي رَغْبَةٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا لِأُحْشَرَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي أَزْوَاجِكَ، فَيَكُونَ لِي مِنَ الثَّوَابِ مَا لَهُنَّ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا، وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ، وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبدالرحمن بن سابط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا سے علیحدگی اختیار کرنے کا ارادہ کیا، آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو بلوایا تاکہ ان دونوں کو اس خاتون کو دی گئی طلاق پر گواہ بنا لیں تو سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یا رسول اللہ! مجھے دنیا میں کوئی رغبت نہیں ہے، البتہ میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ قیامت کے دن میرا حشر آپ کی ازواج میں ہو اور مجھے وہ ثواب ملے جو ان کو ملے گا۔
یہ روایت امام طبرانی نے مرسل روایت کے طور پر نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے اور وہ ضعیف ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15342]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (32/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15343
وَعَنِ الْهَيْثَمِ - أَوْ أَبِي الْهَيْثَمِ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - طَلَّقَ سَوْدَةَ تَطْلِيقَةً، فَجَلَسَتْ فِي طَرِيقِهِ، فَلَمَّا مَرَّ سَأَلَتْهُ الرَّجْعَةَ، وَأَنْ تَهَبَ قَسْمَهَا مِنْهُ لِأَيِّ أَزْوَاجِهِ شَاءَ ; رَجَاءَ أَنْ تُبْعَثَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ زَوْجَتَهُ، فَرَاجَعَهَا وَقَبِلَ ذَلِكَ مِنْهَا. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَفِي إِسْنَادِهِ ضَعْفٌ.
سیدنا ہیثم (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) سیدنا ابوالہیثم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا کو ایک طلاق دے دی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے راستے میں بیٹھ گئیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ رجوع کر لیں اور وہ اپنی باری کا مخصوص دن اس خاتون کو ہبہ کرتی ہیں، جس زوجہ محترمہ کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاہیں اور انہیں یہ امید ہے کہ قیامت کے دن انہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ کے طور پر اٹھایا جائے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے رجوع کر لیا اور ان کی اس بات کو قبول کر لیا۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے۔ [مجمع الزاوئد ومنبع الفوائد/كِتَابُ الْمَنَاقِبِ/حدیث: 15343]
تخریج الحدیث: «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (33/24)»

الحكم على الحديث: إسنادہ ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں